.

اسرائیل کی قومی فضائی کمپنی ایل آل کی پہلی باقاعدہ پرواز کی دبئی کے ہوائی اڈے پر آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی قومی فضائی کمپنی ایل آل کی پہلی باقاعدہ پرواز اتوار کی صبح دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اتری ہے۔اس نے تل ابیب کے بن گورین ہوائی اڈے سے اڑان بھری تھی۔

ایل آل دونوں شہروں کے درمیان ہفتے میں چودہ پروازیں چلائے گی۔وہ اتوار اور جمعرات کو تین تین اور ہفتے کے باقی دنوں میں روزانہ دو پروازیں چلائے گی۔اسرائیل کی قومی فضائی کمپنی دبئی کے روٹ پر بوئنگ 737-900 اور ڈریم لائنر ائیرلائنر کرافٹ 787 اپنی پروازوں کے لیے استعمال کرے گی۔

قبل ازیں دبئی کی ملکیتی فضائی کمپنی فلائی دبئی نے 26 نومبر کو تل ابیب کے لیے براہ راست پروازوں کا آغاز کیا تھا۔

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے ستمبر میں امن معاہدہ طے کرنے کے بعد نومبرمیں شہری ہوابازی کے ایک سمجھوتے پر دست خط کیے تھے۔اس کے تحت تل ابیب کے بن گورین ہوائی اڈے سے دبئی اور ابو ظبی کے درمیان ہفتے میں 28 پروازیں چلانے سے اتفاق کیا گیا تھا۔

اس سمجھوتے کے تحت یو اے ای سے اسرائیل کے جنوب میں واقع ایک چھوٹے ہوائی اڈے کے لیے لامحدود چارٹر پروازیں چلائی جائیں گی اور ہفتے میں دس مال بردار پروازیں چلائی جائیں گی۔

دونوں ملکوں کے درمیان فضائی روابط کے فروغ کے لیے طے شدہ اس سمجھوتے کے تحت اسرائیل کی تین فضائی کمپنیاں تل ابیب اور دبئی کے درمیان براہِ راست پروازیں چلائیں گی۔دبئی ائیرپورٹس کے مطابق اسرائیل کی قومی فضائی کمپنی ایل آل کے علاوہ اسریر کی ہفتے میں ان دونوں شہروں کے درمیان چھے پروازیں ہوں گی اور آرکیا روزانہ ایک پرواز چلائے گی۔

دبئی کے دونوں ہوائی اڈوں کے انتظام وانصرام کے ذمہ دار ادارے دبئی ائیرپورٹس نے بتایا تھا کہ ’’اسریر دونوں شہروں کے درمیان ائیربس اے 320 اڑائے گی اور آرکیا اپنی روزانہ کی ایک پرواز کے لیے ایمبرائر ای 195 ای جیٹ ائیرکرافٹ استعمال کرے گی۔‘‘

فلائی دبئی نے گذشتہ ماہ تل ابیب کے لیے ہفتے میں دو پروازیں چلانے کا اعلان کیا تھا۔ دبئی کی ملکیتی اور یو اے ای کی سب سے بڑی فضائی کمپنی امارات (ایمریطس) ائیرلائن فلائی دبئی سروس کے ساتھ ایک مشترکہ سمجھوتے کے تحت اسرائیل جانے اور وہاں سے آنے والے مسافروں کو ٹکٹ فروخت کرے گی۔