.

ایرانی صحافی کی پھانسی پریورپی یونین کی تنقید؛تہران میں جرمن اور فرانسیسی سفیرطلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کو تہران میں متعیّن جرمنی اور فرانس کے سفیروں کو طلب کیا ہے اور ان سے حکومت مخالف صحافی روح اللہ زم کو پھانسی دینے پر تنقید کی وضاحت طلب کی ہے۔

فرانس اور یورپی یونین نے ہفتے کے روز صحافی روح اللہ زم کو پھانسی دینے پر ایران کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔اس پر ایرانی وزارت خارجہ نے اس وقت یورپی یونین کے صدر ملک جرمنی کے سفیر اور فرانسیسی سفیر کو طلب کرکے ان سے مذمتی بیانات پر سخت احتجاج کیا ہے۔

یورپی یونین نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’’تنظیم اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور کسی بھی قسم کے حالات میں سزائے موت دینے کی اٹل مخالفت کا اعادہ کرتی ہے۔‘‘

فرانسیسی وزارت خارجہ نے پھانسی کو سفاکانہ اور ناقابل قبول فعل قرار دیا تھا۔اس نے کہا تھا کہ ’’فرانس ایران میں اظہار رائے کی آزادی اور پریس کی آزادی کی اس سنگین خلاف ورزی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔‘‘

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور پیرس میں قائم صحافیوں کی عالمی تنظیم صحافیان ماورائے سرحد (آر ایس ایف) نے بھی روح اللہ زم کو پھانسی دینے پر ایران کی مذمت کی ہے۔

ایران میں ہفتے کی صبح صحافی روح اللہ زَم کو حکومت مخالف سرگرمیوں کی پاداش میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا۔جون میں ایک ایرانی عدالت نے انھیں سزائے موت سنائی تھی اور انھیں ’’فساد فی الارض‘‘کا مجرم قرار دیا تھا۔

انھیں ملک میں تین سال قبل احتجاجی مظاہروں کو منظم کرنے کے لیے آن لائن مہم چلانے کی پاداش میں قصوروار قرار دیا گیا تھا۔ایران میں ایسے افراد پر بالعموم جاسوسی میں ملوّث ہونے کے الزامات عاید کیے جاتے ہیں یا انھیں حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش پر قصور وار قرار دیا جاتا ہے۔ایران کی عدالتِ عظمیٰ نے گذشتہ منگل کو انقلابی عدالت کا سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

روح اللہ زم نے پیغام رسانی کی مقبول ایپ ٹیلی گرام پر’’آمد نیوز‘‘کے نام سے ایک چینل بنا رکھا تھا۔اس کے پیروکاروں کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ تھی۔ان کی ایک ویب سائٹ بھی تھی۔ان کے ذریعے 2017ء میں خوراک کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے خلاف ایران کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں سے متعلق پیغامات کی تشہیر کی جاتی تھی۔تاہم ایرانی حکومت کی درخواست پر ان کا انسٹاگرام پر چینل بند کردیا گیا تھا۔

انھوں نے فرانس میں سیاسی پناہ حاصل کررکھی تھی اور وہ یورپ کے دوسرے حصوں میں بھی جلاوطن کے طور پر مقیم رہے تھے۔انھیں 2019ء میں سپاہ پاسداران انقلاب نے عراق کے جنوبی شہر نجف سے دھوکے سے گرفتار کیا تھا اور پھر تہران منتقل کردیا تھا۔