.

صدر طیب ایردوآن کے خلاف تہران کے ریمارکس کو مسترد کرتے ہیں: ترک وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کے متنازع اشعار پڑھنے کے نتیجے میں انقرہ اور تہران کے مابین بحران پیدا ہونے کے بعد ترک وزیر خارجہ مولود جاوش اوگلو نے اپنے ایرانی ہم منصب کو خبردار کیا ہے کہ تہران کا صدر طیب ایردوآن کے بارے میں موقف ناقابل قبول ہے۔ تہران کی طرف سے ترک صدر کو تنقید کا نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہیں۔

ہفتے کے روز ایرانی شوریٰ کونسل میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ مجتبیٰ ذوالنوری نے ایردوآن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ "قفقاز" میں ترکی کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔

ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ذوالنوری نے الزام عاید کیا کہ ایردوآن آذربائیجان، شام، عراق اور خلیج جیسے ممالک میں ترکی کے اثر و رسوخ کو بڑھانا چاہتا ہے۔

قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ نے ترک صدر سے ان کے بیانات کو ایران کی سالمیت کے لیے جارحانہ قرار دیتے ہوئے ایرانی عوام سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔

جمعہ کے روز انقرہ نے ایرانی وزارت خارجہ کو تہران میں ترک سفیر کو طلب کرنے کا جواب دیا تھا۔ ترکی کی وزارت خارجہ نے ایرانی سفیر کو طلب کیا اور ان سے صدر رجب طیب اردوآن کے خلاف تہران کی طرف سے لگائے گئے "بے بنیاد الزامات" پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

ایران کے العالم ٹی وی چینل نے جمعہ کے روز بتایا کہ ایرانی وزارت خارجہ نے صدر ایردوآن کے متنازع ریمارکس کے بعد تہران نے انقرہ سے "فوری وضاحت" فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تہران نے کہا: "توسیع پسندانہ عزائم کا مرحلہ ختم ہوچکا ہے اور ایران کسی کو بھی اپنی خود مختاری کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا ہے اور ایک انچ بھی اپنی قومی سلامتی کو قبول نہیں کرے گا۔"

خیال رہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی جانب سے جمعرات کے روز آذربائیجان کی فوج سے خطاب کے دوران پڑھے گئے کچھ اشعار پر ایران نے سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے تہران میں متعین ترک سفیر کو طلب کر کے اس پر احتجاج کیا ہے۔ دوسری طرف ترکی نے ایران کو ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے انقرہ میں تعینات ایرانی سفیر کو احتجاج کے لیے طلب کرلیا۔

ترکی کی وزارت خارجہ نے صدر رجب طیب ایردوآن کے خلاف تہران کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو "بے بنیاد" قرار دے کر اس پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ساتھ ہی ایرانی سفیر سے اس پر باقاعدہ احتجاج کیا گیا ہے۔

اس سے قبل جمعہ کے روز ایرانی وزارت خارجہ نے انقرہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ صدر ایردوآن کی تقریر میں متنازع علاقے سے متعلق اشعار پڑھنے کے واقعے کی وضاحت کرے۔

تہران نے کہا کہ توسیع پسندانہ عزائم کا دور ختم ہوچکا ہے۔ ایران کسی کو بھی اپنی خودمختاری کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دےگا اورنہ ہی اپنی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی اجازت دے گا۔

وزارت خارجہ نے زور دے کر کہا کہ ایران کسی بھی جماعت کو اپنی علاقائی سالمیت کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دے گا اور اپنے مفادات کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

جمعرات کے روز باکو میں ترک صدر نے آذربائیجان کی فوج سے خطاب کے دوران اراس کے علاقے سے ایک نظم کے کچھ اشعار پڑھے جن پر ایران میں سخت ناراضی کا اظہار کیا گیا۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ ایردوآن کو یہ اطلاع نہیں دی گئی تھی کہ انہوں نے باکو میں جو اشعار دہرائے تھے ان کا "غلط طور پر" تعلق "اراس کے شمالی علاقوں کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔

ظریف نے اپنے ٹویٹر پیج پر ایک ٹویٹ میں فارسی اور انگریزی میں استفسار کیا کہ کیا وہ (ایردوآن) کو سمجھا نہیں سکے کہ وہ جمہوریہ آذربائیجان کی آزادی کے خلاف بات کرتے ہیں۔ کوئی بھی ہمارے پیارے آذربائیجان کے بارے میں بات نہیں کرسکتا۔