.

واشنگٹن نے مغربی صحارا کی شمولیت کے ساتھ مراکش کا نقشہ منظور کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے مراکش کے ایک سرکاری نقشے کی منظوری دی ہے جس میں مغربی صحارا کا علاقہ بھی شامل ہے۔ یہ منظوری ہفتے کے روز مراکش کے دارالحکومت رباط میں امریکی سفارت خانے میں ایک تقریب کے دوران دی گئی۔

اس موقع پر امریکی سفیر ڈیوڈ فِشر نے کہا کہ یہ نقشہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دو روز قبل کیے گئے اعلان کا مجسم ہے جس میں انہوں نے مغربی صحارا پر مراکش کی خود مختاری کو تسلیم کر لیا تھا۔ بعد ازاں ٹرمپ نے امریکی حکومت کے پاس مراکش کے نئے سرکاری نقشے پر دستخط بھی کیے۔

اسی طرح امریکی سفیر نے بھی تقریب میں مملکت مراکش کے مکمل سرکاری نقشے پر دستخط کیے۔

جمعرات کو وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکا نے مغربی صحارا کے علاقے پر مراکش کی خود مختاری کی حمایت کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مغربی صحارا کے علاقوں کے حوالے سے سامنے آنے والے تنازع کے منصفانہ اور پائیدار حل کے بعد امریکا ان علاقوں پر مراکش کی خود مختاری کا حامی ہے۔ بیان میں‌ مزید کہا گیا کہ امریکا نے آج سے مغربی صحارا پر مراکش کی خود مختاری کو تسلیم کرلیا ہے۔ مغربی صحارا اور صحارا کی سرزمین پر تنازع کے ایک منصفانہ اور پائیدار حل کی واحد بنیاد اس پر مراکش کی خود مختاری ہے اور اس حوالے سے مراکش کی قابل اعتماد اور حقیقت پسندانہ تجویز کی حمایت کی جاتی ہے۔

بیان کے مطابق امریکا کا ماننا ہے کہ تنازعات کے حل کے لیے آزاد صحارا ریاست کا قیام حقیقت پسندانہ آپشن نہیں ہے اور مراکش کی خود مختاری کے تحت حقیقی خود مختاری ہی واحد ممکنہ حل ہے۔ اس کے علاوہ وائٹ ہاؤس نے فریقین پر زور دیا کہ وہ تاخیر کے بغیر بات چیت شروع کریں۔ مراکشی خود مختاری کے منصوبے کو باہمی طور پر قبول کیا جائے اور اسے عملی شکل دینے کے لیے قابل عمل فریم ورک تیار کیا جائے۔

اسی مناسبت سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں اعلان کیا تھا کہ آج انہوں نے مغربی صحارا پر مراکش کی خود مختاری کو تسلیم کرنے والے ایک اعلامیے پر دستخط کر دیے ہیں۔