.

امریکا کی دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے سوڈان کا نام سرکاری طور پرخارج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے اپنی دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے سوڈان کا نام سرکاری طور پر خارج کردیا ہے۔

خرطوم میں امریکی سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ کانگریس کے نوٹی فیکیشن کا 45 دن کا وقت گزرگیا ہے اور سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے ایک نوٹی فیکیشن پر دست خط کردیے ہیں۔اس میں یہ کہا گیا ہے کہ سوڈان دہشت گردی کو اسپانسر کرنے والا ملک نہیں رہا ہے۔یہ آج 14 دسمبر سے مؤثر العمل ہوگیا ہے اور اس کو وفاقی رجسٹر میں شائع کیا جارہا ہے۔‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اکتوبر میں سوڈان کا نام دہشت گردی کے اسپانسر ممالک کی فہرست سے حذف کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کی شرط یہ عاید کی تھی کہ اس کو کینیا اور تنزانیہ میں بم دھماکوں کےمہلوکین کے لواحقین اور دیگر متاثرین کو ساڑھے 33 کروڑ ڈالر کی رقم ادا کرنا ہوگی۔ سوڈان گذشتہ ماہ یہ رقم ادا کرچکا ہے۔

امریکا نے 1993ء میں سوڈان کو سابق مطلق العنان صدر عمرحسن البشیر کے دورِحکومت میں دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والاملک قرار دیا تھا۔ تب القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن سوڈان میں مقیم رہے تھےاور وہ وہاں کئی سال تک (اب) برطرف صدرعمر حسن البشیر کے مہمان رہے تھے۔

امریکا کی دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے نام کے اخراج کے بعد سوڈان کی خودمختارانہ استثنا بھی بحال ہوجائے گا۔اس وقت اس کی وجہ سے اس کی عبوری حکومت کو معاشی بحران سے نکلنے کے لیے فوری طور پر درکار رقوم تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

سوڈان نے اکتوبر میں امریکی دباؤ کے تحت اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے سے بھی اتفاق کیا تھا۔وہ تب اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے والا تیسرا عرب ملک تھا۔ اس سے پہلے ستمبر میں متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل سے امن معاہدے طے کیے تھے۔

یہ دونوں امن معاہدے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں طے پائے تھے اور انھوں ہی نے اسرائیل اور سوڈان کے درمیان تیسرے امن سمجھوتے کا اعلان کیا تھا۔اب چند روز قبل صدر ٹرمپ کی ثالثی میں مراکش نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا اعلان کیا ہے۔