.

بھارت میں ’’کالے قوانین‘‘کے خلاف سراپا احتجاج کسانوں کی اب بھوک ہڑتال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت میں وزیراعظم نریندرمودی کی حکومت کی متنازع زرعی اصلاحات کے خلاف احتجاج کرنے والے ہزاروں کسانوں نے سوموار سے بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔وہ گذشتہ دو ماہ سے زرعی اصلاحات سے متعلق تین متنازع قوانین کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور حکومت سے انھیں منسوخ کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

کسانوں نے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے نواح میں واقع پانچ بڑی شاہراہوں پر دھرنا دے رکھا ہے۔ان کاکہنا ہے کہ جب تک مرکزی حکومت ’’کالے قوانین‘‘ کو منسوخ نہیں کردیتی،اس وقت تک وہ اپنی احتجاجی تحریک ختم نہیں کریں گے۔

احتجاج کرنے والے کسانوں اور کاشت کاروں میں زیادہ تر کا تعلق ریاست پنجاب اور ہریانہ سے ہے۔ انھوں نے نئی دہلی کی جانب جانے والی شاہراہوں پر احتجاجی کیمپ لگا رکھے ہیں اور انھیں گذشتہ تین ہفتے سے بند کررکھا ہے جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی احتجاجی کیمپوں کے نزدیک موجود ہےاور اس کی مظاہرین سے جھڑپیں بھی ہوچکی ہیں۔

کسان لیڈروں کی بھارتی حکومت سے بات چیت میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے جبکہ احتجاجی لیڈروں نے حکومت کی جانب سے نئے قوانین کی بعض متنازع شقوں میں ترامیم کی پیش کش کو مسترد کردیا ہے اور وہ بدستور تینوں قوانین کی مکمل تنسیخ کا مطالبہ کررہے ہیں۔

انھوں نے آج سوموار سے علامتی بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے اور اپنے ایجی ٹیشن کو شدید تر کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ستمبر میں منظور کردہ قوانین کو منسوخ نہیں کیا تو وہ آیندہ دنوں میں ٹرینوں کو بھی بند کردیں گے۔

کسانوں نے بھارتی سپریم کورٹ میں جمعہ کو ایک درخواست دائر کی تھی اور اس میں قوانین کی تنسیخ کا مطالبہ کیا تھا۔یہ درخواست بھارتی کسان یونین اور اس کے قائد بھانو پرتاپ سنگھ کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔اس میں یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ قوانین یک طرفہ ہیں اور حکومت نے ان کے نفاذ کے وقت متعلقہ فریقوں سے کوئی مشاورت نہیں کی ہے۔

کسانوں اور حکومت کے درمیان نومبر کے بعد سے مذاکرات کے پانچ دورناکام ہوچکے ہیں۔ان کے نتیجے میں کسانوں نے دھرنا ختم نہیں کیا اور وہ بالاصرارحکومت سے متنازع قوانین یکسر منسوخ کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

بھارت کے وزیر زراعت نریندر سنگھ ٹومر نے جمعرات کو کسانوں کو پیش کش کی تھی کہ حکومت ان کے تحفظات دور کرنے کے لیے ان قوانین میں ترامیم کو تیار ہے لیکن انھیں قوانین کی یکسر تنسیخ کے مطالبہ سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔

مگر کسان اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ ان قوانین کے نفاذ کی صورت میں حکومت کم سے کم سے ضامنی قیمت پر ان کی زرعی اجناس کی خریداری روک دے گی اور اس کے بعد کارپوریشنیں قیمتیں گرادیں گی۔تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ وہ گارنٹی قیمتوں پر خریداری جاری رکھنے کی ضمانت دینے کو تیار ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کی قریباً 60 فی صد آبادی کی گزر بسر زراعت پر ہے۔کسانوں کی بغاوت نے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت اور اس کے اتحادیوں کو ناکوں چنے چبوا دیے ہیں اور انھیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔اس کے باوجود مودی حکومت مُصر ہے کہ اصلاحاتی قوانین سے کسانوں کو فائدہ پہنچے گا۔کسان اپنی زرعی پیداوار کی مارکیٹ کرسکیں گے اور وہ نجی سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی پیداوار میں بھی اضافہ کرسکیں گے لیکن پنجاب ، ہریانہ اور بھارت کی دوسری ریاستوں سے تعلق رکھنے والے کسان حکومت کی اس لیپاپوتی کو مسترد کرچکے ہیں۔