.

سعودی عرب سے اٹوٹ محبت رکھنے والے امریکی 'ابو جیک' کا قصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں زندگی کا ایک بڑا حصہ گذارنے والے امریکی انجینیر کو مملکت سے ایسے محبت ہوگئی جیسے کہ سعودی عرب اور کی مادر وطن ہو۔

ابو جیک کے لقب سے مشہور ہونے والے امریکی انجینیر مارئی لوئی نے کئی سال سعودی عرب میں گذارے۔ اپنے سعودی سفر کے دوران اس نےسیکڑوں مقامات کی ان گنت یاد گار تصاویر کا ایک خوبصورت البم تیار کرکے سعودی عرب کےساتھ اپنے بے پایاں محبت کا اظہار کیا ہے۔

امریکی انجینیر مارک لوئی جنہیں 'ابو جیک' کے عرفی نام جانا جاتا ہےنے 1979 سے ہی سعودی عرب کی بہت سی تصاویر حاصل کیں ‌جنہیں اس نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا شروع کر دیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اپنی روداد بیان کرتے ہوئے ابو جیک نے بتایا کہ میں سنہ1978ء کو امریکا کی کیلیفورنیا یونیورسٹی میں تعلیم سے فراغت کے بعد ملازمت کے سلسلے میں سعودی عرب پہنچا۔ میرا ہوائی جہاز سعودی عرب کے الظہران ہوائی اڈے پر اترا۔ یہاں درجہ حرارت امریکا کی نسبت بہت زیادہ تھا مگر یہاں‌ کے لوگوں کے حسن سلوک اور قابل تحسین برتائو نے گرمی کا احساس تک نہ ہونے دیا۔

میں ایک پٹرولیم انجینیر کے طور پر سعودی عرب میں 'سانٹیفنو' کمپنی میں ملازمت کے لیے آیا تھا۔ ہوائی اڈے پرمجھے لینے والے جو صاحب آئے تھے ان کی گاڑی کی نمبر پلیٹ پر میرا نام درج تھا۔ میں سعودیہ کے لوگوں کے طرز عمل، بود باش، خواتین کے لباس، گرم جوشی سے استقبال کی مقامی روایت اور سعودی کلچر سے بے حد متاثر ہوا۔

الظہران میں کچھ دن گذارنے کے بعد میں سعودی عرب کے بقیق شہر منتقل ہوگیا۔ وہاں‌ میں‌ نے دیہی طرز زندگی کو قریب سے دیکھا۔ لوگ خیموں میں رہتے اور آگ کے الائو جلا کر اس کے گرد اکھٹے بیٹھ جاتے۔ میں بہت تیزی کے ساتھ سعودی معاشرے میں گھل مل گیا۔ مجھے ایسے لگتا کہ سعودی عرب میرا وطن ہے۔ میں نے آگ کے ارد گرد بیٹھے لوگوں کی یادگار تصاویر بنائیں اور انہیں امریکا میں اپنے دوستوں کو بھی دکھاتا۔ الغرض میں سعودی عرب میں بہت خوش تھا۔

ابو جیک نے بتایا کہ سعودی عرب میں 30 سالہ قیام کے دوران میں نے یاد گار تصاویر کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کر لیا۔ مجھے سعودی عرب سے بہت محبت اور ہمدردی ہے۔ تیس سال کے بعد میں امریکا گیا تو میں نے تصاویر کا مجموعہ اپنے دوستوں کو دکھایا۔ سنہ 2013ء کو میں ایک بار پھر سعودی عرب واپس آیا مگر اس بار میں سعودی عرب کی سب سے بڑی پٹرولیم کمپنی میں ملازمت کر رہا ہوں۔

ابو جیک نے بتایا کہ سنہ 1979ء کو میں‌ نے سعودی عرب کے دیہی علاقوں، خیموں، صحرائوں اور لوگوں کی روز مرہ زندگی کی ہیلی کاپٹر سے تصاویر حاصل کیں۔ مجھے کھجور، اونٹی کا دودھ بہت زیادہ پسند ہیں۔

جب میں دوبارہ سعودی عرب آیا تو میں یہاں میرے واقف خاندانوں میں افراد کی تعداد بڑھ چکی تھی۔ سعودی عرب میں تیزی کے ساتھ حالات بدل رہے ہیں۔ میں نے مشرقی سعودی عرب میں 35 سال گذارے۔ الخبر، القطیف، الھفوف، الجبیل جیسے شہروں میں گذرے لمحات کو میں‌ نے اپنے کیمرے میں محفوظ کیا جومیرے پاس گذرے وقت کی حسین یادگار ہیں۔