.

ایران : مخلوط کنسرٹس کےانعقاد پر6 ماہ کی جیل بھگتنے والے گلوکار کا وطن سے جی بھرگیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں رقص وسرود کی مخلوط محفل سجانے کے جرم میں چھے ماہ کی قید بھگتنے والے گلوکا کامیار شیخ کا اب موسیقی ہی سے دل اچاٹ ہوگیا ہے۔

کامیار شیخ نے 2019ء میں تہران میں واقع اپنے ٹیک کیفے میں محفل موسیقی کا انعقاد کیا تھا اور اس میں خاتون فن کاروں کو بھی اپنے فن کے جوہر دکھانے کی دعوت دی گئی تھی لیکن پولیس کو اس کی بھنک پڑ گئی۔اس نے فن کا مظاہرہ کرنے والی خواتین اور اس پروگرام کے منتظم کامیار کو مخرب الاخلاق ماحول بنانے کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔

اس کے بعد کامیار شیخ نے ایک قاتل کے ساتھ جیل میں چھے راتیں گزاری تھیں اور انھیں ساڑھے تین ارب ریال (83 ہزار ڈالر ) کی بھاری رقم ضمانت کے لیے جمع کرانا پڑی تھی۔پھر انھیں چھے ماہ جیل کی سزا سنا دی گئی اور بالآخر ایک طویل قانون جنگ کے بعد انھیں جیل سے رہائی ملی تھی۔

اس قید وبند سےکامیار کو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ان کا اپنے وطن میں موسیقی کے شعبے میں کام سے ہی جی بھر گیا ہے۔ انھوں نے العربیہ سے گفتگو میں بتایا کہ:’’یہ کیا بات ہوئی کہ آپ اگر مرد ہیں تو گا سکتے ہیں لیکن عورت ہونے کی صورت میں گا نہیں سکتے۔یہ تو منصفانہ نہیں۔‘‘

کامیار شیخ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔انھوں نے وہاں سے لوٹنے کے بعد 2014ء میں ٹیک کیفے قائم کیا تھا اور وہاں موسیقی کے مختلف پروگرام منعقد کیے جاتے رہے ہیں۔وہ خود اور ان کی اہلیہ اس کیفے کے مینجر، موسیقار، میوزک ڈائریکٹر اور باورچی کے طور پر کام کرتے رہے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے اس کیفے کو چلانے کے لیے تمام قانونی اجازت نامے حاصل کررکھے تھے لیکن صرف ایک اجازت نامہ نہیں لیا تھا اور وہ خواتین کو گانے کی اجازت سے متعلق تھا۔

ٹیک کیفے میں مخلوط پروگراموں کے انعقاد پر ایران کی وزارت ثقافت اور اسلامی رہ نمائی کے اہلکاروں نے کامیار سے رابطہ کیا تھا اور انھیں خبردار کیا تھا کہ وہ اس طرح کے پروگرام منعقد کرنے سے باز آجائیں لیکن انھوں نے اپنا کام جاری رکھا تھا۔

پھر کیا ہوا۔ انھیں گرفتار کر لیا گیا اور تمام جمع پونجی ضمانت پر اٹھ گئی۔ جیل سے رہا ہو کر وہ اپنے کیفے پہنچے تو وہاں یہ ’’فحاشی کا اڈا‘‘ ہے، کا بورڈ لگا تھا اور اجڑ چکا تھا۔اب وہ کوئی دو سال کے بعد اپنے ملک میں موسیقی کاکاروبار دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ دوسری مرتبہ اپنی باقی ماندہ جمع پونجی لٹانا نہیں چاہتے ہیں۔