.

ترکی کی حرکتیں نیٹو اتحاد کے لیے خطرہ بن رہی ہیں: امریکی ذمے داران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگرس میں ریپبلکن اکثریت کے لیڈر مائیکل میکول اور ایوان نمائندگان میں خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے سربراہ ایلوٹ اینجل کا کہنا ہے کہ ترکی کی حرکتیں نیٹو اتحاد کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔

بدھ کے روز جاری ایک مشترکہ بیان میں دونوں شخصیات نے صدر رجب طیب ایردوآن کے دور میں ترکی کے ان تصرفات پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا جن سے نیٹو اتحاد، خطہ اور ترکی میں قانون کی بالادستی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی کے اشتعال انگیز رویے کی صورت میں سامنے والا خطرہ باعث تشویش ہے۔

بیان میں زور دیا گیا ہے کہ انقرہ کی جانب سے عدم استحکام پھیلانے کا سلسلہ روکا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی باور کرایا گیا ہے کہ واشنگٹن کو اپنے یورپی اور نیٹو اتحاد کے حلیفوں اور شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے تا کہ ترکی سے اپنا راستہ تبدیل کرے کا مطالبہ کار گر ہو سکے۔

امریکی ذمے داران نے ایردوآن پر زور دیا کہ وہ اشتعال انگیز رویے پر روک لگا کر نیٹو اتحاد کی اقدار کی پاسداری کریں۔

مشترکہ بیان میں ترکی کے ان اقدامات پر تنقید کی گئی جو واشنگٹن کی تشویش کا سبب بن رہے ہیں۔ ان میں روس سےS-400 میزائل نظام کی خریداری شامل ہے جو نیٹو اتحاد کے دفاعی عمل کو سبوتاژ کر رہی ہے۔

اسی طرح بیان میں شمال مشرقی شام میں ترکی کے فوجی آپریشن پر بھی نکتہ چینی کی گئی جو داعش کے انسداد کی کوششوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ انقرہ کی حمایت یافتہ جماعتیں شمالی شام میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہی ہیں۔

بیان میں ایردوآن کی جانب سے دیگر عالمی تنازعات بھڑکانے کا بھی ذکر کیا گیا جیسا کہ انہوں نے شامی اجرتی جنگجوؤں کو لیبیا اور نگورنو کاراباخ بھیجا۔

علاوہ ازیں ایردوآن نے اعلانیہ طور پر ان افراد کی میزبانی کی جن کا نام امریکا نے دہشت گردی سے متعلق اپنی فہرستوں میں درج کیا ہوا ہے۔

مزید یہ کہ بیان میں ترکی کی صورت حال کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ایردوآن حکومت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے اقتدار مضبوط بنا کر جمہوری اداروں کو تباہ کر ڈالا۔ اسی طرح عدلیہ کی آزادی ، انسانی حقوق اور آزادی اظہار کو برباد کر دیا گیا۔