ڈنمارک میں ایک غیر ملکی خاتون پر ترکی کے لیے جاسوسی کے الزام کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ڈنمارک کے پراسیکیوٹر جنرل نے ایک غیرملکی خاتون پر ترکی کے لیے جاسوسی کرنے اور ترک حکومت کو ڈنمارک میں فتح اللہ گولن نیٹ ورک کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے واقعے کی تحقیقات شروع کی ہیں۔

موجودہ ترک حکومت کا دعویٰ ہے کہ چار سال قبل ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے پیچھے فتح اللہ گولن اور ان کے نیٹ ورک کا ہاتھ تھا۔ امریکا میں خود ساختہ جلا وطنی کاٹنے والے مذہبی رہ نما فتح اللہ گولن انقرہ کے اس الزام کو مسلسل رد کرتے آئے ہیں۔

کوپن ہیگن کی پراسیکیوٹر لیز لوٹے نیلس نے جمعرات کو ایک بیان میں‌کہا کہ ڈچ قانون کے تحت شہروں کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنا اور انہیں کسیی غیرملکی خفیہ ایجنسی کو فراہم کرنا یا کسی دوسری ایجنسی کے ایجنٹ کے طور پر ڈنمارک کی سرزمین پرجاسوسی کرنا سنگین جرم ہے۔

جرم ثابت ہونے کی صورت میں جاسوسی کی 47 سالہ ملزمہ کو چھ سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ ابھی تک خاتون کو گرفتار نہیں‌کیا گیا اور اس کے ٹھکانے کی تفصیل بھی ظاہر نہیں‌ کی گئی ہے۔

نیلس نے مزید کہا کہ پراستغاثہ نے خاتون کو جیل بھیجنے یا ملک بدری کی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

پراسیکیوٹر حکام کا کہنا ہےکہ خاتون نے سنہ 2016ء‌کو ترک حکام کو ای میل کے ذریعے ڈنمارک میں موجود کچھ لوگوں‌کی تفصیل ارسال کی تھی۔خاتون کا دعویٰ تھا کہ اسے پتا چلا ہے کہ ان لوگوں کا ایردوآن کے سابق اتحادی اورموجودہ حریف فتح اللہ گولن کے قائم کردہ نیٹ ورک کے ساتھ تعلقات ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں