.

تفریحی ‌مقام کے پڑوسی ٹرمپ کے مستقل قیام پر کیوں معترض ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری 2021ء کو اقتدار سے سبکدوشی اور وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد کہاں رہنا چاہتے ہیں؟ یہ اہم سوال ہے مگر جواب یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ریاست فلوریڈا کی 'پام بیچ' تفریح گاہ میں اپنی رہائش رکھنا چاہتے ہیں۔ مگر وہاں ایک مسئلہ ہے۔ وہ یہ کہ 'مار-لا-لاگو' حویلی کے پڑوسی نہیں چاہتے کہ صدر ٹرمپ مستقل بنیادوں پر وہاں قیام کریں۔ وہاں پر ٹرمپ کی رہائش گاہ ایک وسیع وعریض حویلی ہے جس میں 58 بیڈ روم، 33 باتھ روم اور ایک انتہائی پرتعیش گالف کلب اور بہت کچھ ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ حویلی سنہ 1985ء میں ایک کروڑ ڈالر میں خرید کی تھی۔

اس ریزورٹ کے پڑوسی جو ٹرمپ نے 1985 میں 10 ملین ڈالر میں خریدی گئی کا کہنا ہے کہ 8 سال کے بعد صدر ٹرمپ اور تفریحی مقام کے ممبران کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اس کا کوئی ممبر وہاں پر مستقل قیام نہیں کرسکتا۔ نیز "مار الاگو" میں 500 سے زیادہ ممبر نہیں رہ سکتے ہیں اور کوئی بھی ممبر مسلسل 22 دن سے زیادہ قیام نہیں کرسکتا۔

صدر ٹرمپ کے ایک ترجمان نے ایسے کسی بھی معاہدے یا دستاویز کی تردید کی ہے جو ٹرمپ کو مستقل طور پر رہائش گاہ میں مقیم ہونے سے روکتا ہے۔

ایک دوسرے وکیل 'ریجینالڈ اسٹیمبھ' نے گذشتہ منگل کو واشنگٹن پوسٹ کے ذریعہ انکشاف کیا تھا کہ انہوں‌ نے 'پام بیچ' کے عہدیداروں کو ایک خط بھیجا تھا جس میں انہیں آگاہ کیا گیا تھا کہ اگر ٹرمپ 1993 میں اس ریزورٹ کو اپنی رہائش گاہ کے طور پر قبول کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انہوں نے وزٹرز کی رہائش کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ تفریح گاہ میں رہنا ایک ڈراؤنا خواب ہے اور صدر ٹرمپ اپنے کیے معاہدے کے پابند ہیں۔

اخبار کے ذریعہ شائع ہونے والے مکتوب میں وکیل نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ ٹرمپ کو 22 دن سے زیادہ عرصے تک اپنی رہائش گاہ کے طور پر کلب کو استعمال کرنے سے روکتا ہے۔ وہ کلب میں پڑوسیوں کے لیے مسائل پیدا کری گے۔ ان کی وجہ سے سیرگاہ میں ٹریفک کا ھجوم پیدا ہوگا اور علاقے میں‌ پراپرٹی کی قیمتیں‌ بھی گر جائیں گے۔