.

واشنگٹن روس میں اپنے آخری دو قونصل خانے بند کر دے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کانگرس کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ روس میں باقی امریکا کے دو آخری قونصل خانے بھی بند کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ نے گذشتہ ہفتے قانون سازوں کا بتایا تھا کہ وہ روس کے مشرقی شہر ولاڈیووسٹک میں امریکی قونصل خانہ مستقل طور پر بند کر دیا جائے گا جب کہ یکاٹرینبرگ شہر میں امریکی قونصل خانے میں کام کو عارضی طور پر معطل کیا جائے گا۔

اس حوالے سے 10 دسمبر کو کانگرس کو نوٹفکیشن ارسال کیا گیا۔ یہ اقدام امریکا میں سرکاری اور نجی کمپیوٹر سسٹمز پر روس کے ایک بڑے سائبر حملے کے حوالے سے خبر منظر عام پر آنے سے تین روز قبل کیا گیا تھا۔

وزارت خارجہ کی جانب سے کانگرس کو بھیجے گئے نوٹفکیشن میں کہا گیا کہ قونصل خانوں کی بندش کا تعلق 2017ء میں روسی حکام کی جانب سے متعدد امریکی سفارت کاروں پر عائد کی گئی قیود سے ہے۔ ان سفارت کاروں کو روس میں کام کرنے کی اجازت تھی۔

آخری دو قونصل خانوں کی بندش کے بعد روس میں امریکا کی واحد سفارتی تنصیب ماسکو میں موجود سفارت خانے کی صورت میں ہو گی۔ روس نے 2018ء میں سینٹ پیٹرزبرگ شہر میں امریکی قونصل خانے کی بندش کا حکم جاری کیا تھا۔ اس سے قبل امریکا نے سیاٹل میں روسی قونصل خانہ بند کر دیا تھا۔ امریکی اقدام برطانیہ میں ایک سابق روسی جاسوس کو زہر دیے جانے کے حوالے سے انتقامی کارروائی کے طور پر سامنے آیا تھا۔

ولادیووسٹک شہر میں قونصل خانے کی بندش کے بعد امریکی ملازمین کو ماسکو میں سفارت خانے منتقل کر دیا جائے گا جب کہ مقامی ملازمین کو فارغ کر دیا جائے گا۔ وزارت خارجہ کے مطابق اس قونصل خانے کی دائمی بندش سے سالانہ 32 لاکھ ڈالر کی بچت ہو گی۔

امریکی قونصل خانوں کی بندش سے روس کے انتہائی مشرقی علاقوں میں موجود امریکی مسافروں کو بڑے پیمانے پر پریشانی کا سامنا ہو گا۔

امریکی وزیر خارجہ کے مطابق یہ بات واضح ہے کہ کئی امریکی سرکاری ایجنسیوں اور دنیا بھر میں بھی اہداف کو لپیٹ میں لینے والے بڑے سائبر حملے کا ذمے دار روس ہے۔ انہوں نے پیر کے روز اپنے بیان میں ان حملوں میں ماسکو کے ملوث ہونے کی جانب اشارہ کیا تھا۔ پومپیو نے باور کرایا کہ روسی حکومت بارہا امریکی سرکاری نیٹ ورکس کو ہیک کرنے کی کوششیں کر چکی ہے۔