.

سائبر حملے پر قابو پا لیا؛ہر کام میں روس ہی کا کیوں نام لیا جارہا ہے؟ڈونلڈ ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کی سرکاری ایجنسیوں پر ایک بڑے سائبر حملے کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ ’’یہ حملہ اب کنٹرول میں ہے۔‘‘انھوں نے اس میں روس کے کردار سے متعلق اپنی انتظامیہ کے جائزے کو بھی نظرانداز کرنے کی کوشش کی ہے۔

انھوں نے سائبر حملے کے بعد ہفتے کے روزاپنے پہلے ردعمل کا اظہار ایک ٹویٹ کے ذریعے کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’مجھے حملے کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ کردیا گیا ہے۔ اب ہر چیز کنٹرول میں ہے۔‘‘ وہ لکھتے ہیں:’’ جو کچھ بھی ہوتا ہے ، اس میں روس کا نام لیا جاتا ہےاور روس ، روس، روس کی تکرار شروع ہوجاتی ہے جبکہ چین بھی تو اس میں ملوّث ہوسکتا ہے۔‘‘

لیکن خود ان کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے روس کو اس حملے کا ذمے دار قرار دیا تھا۔ انھوں نے جمعہ کو ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے روس کو امریکا کی متعدد سرکاری ایجنسیوں پر تباہ کن حملے کا مورد الزام ٹھہرایا تھا۔اس حملے میں دنیا بھر میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ایک تھرڈپارٹی کے سوفٹ وئیر کے ذریعے ایک نمایاں کوشش کی گئی ہے،اس سے امریکی حکومت کے نظاموں کے اندر ایک کوڈ داخل کیا گیا ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ امریکی ایجنسیوں کے نظاموں پر اس بڑے سائبر حملے میں واضح طور پر روس کا ہاتھ ملوّث ہے جبکہ روس نے اس الزام کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ اس کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔