.

یہ ترکی ہے: صدرایردوآن کی توہین کے الزام میں سیکڑوں بچّوں کے خلاف مقدمات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کیا آپ جانتے ہیں، ترکی میں صدر رجب طیب ایردوآن کی توہین کے الزام میں بڑی عمر کے لوگوں کے علاوہ کم سن بچّوں کے خلاف بھی مقدمات چلائے جاتے ہیں اور گذشتہ چھے سال کے دوران میں ایک سو ، دو سو نہیں،903 لڑکے بھالوں کو صدر ایردوآن کی توہین کے الزامات میں عدالتوں کی سیر کرنا پڑی ہے۔ان میں سے 264 بچّوں کی عمریں 12 سے 14 سال کے درمیان تھیں۔

ترکی کی وزارتِ انصاف کے فراہم کردہ اعدادوشمار سے انکشاف ہوا ہے کہ گذشتہ چھے سال کے دوران میں صدر کی توہین کے الزام میں 128872 درخواستوں کی تحقیقات کی گئی ہے۔پراسیکیوٹروں نے صرف 2019ء میں 36066 درخواستوں کا جائزہ لیا تھا اور ان میں سے 11371 افراد کے خلاف فوجداری مقدمات دائر کیے گئے تھے۔

ترکی کے ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 299 کے مطابق صدر کی توہین ایک فوجداری جرم ہے،اس کے مرتکب کو ایک سے چار سال تک قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔اگراس جُرم کا کھلے عام ارتکاب کیا جائے تو چھے گنا زیادہ سزا سنائی جاسکتی ہے۔

وزارت انصاف کے اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ چھے کے دوران میں جن نوعمر لڑکوں کے خلاف صدر کی توہین کے الزام میں مقدمات چلائے گئے ہیں، ان کی عمریں 12 سے 17 سال کے درمیان تھیں۔

صدر ایردوآن کے خلاف بالعموم سوشل میڈیا پر توہین آمیز پوسٹوں کے الزامات میں 9556 افراد کو قصوروار قرار دیا گیا ہے۔ان میں 2676 افراد کو قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ان میں سات کم سن بچّے تھے جبکہ 4325 افراد کو الزامات سے برّی کردیا گیا تھا۔

ترک شہریوں کے علاوہ 234 غیرملکیوں اور آٹھ قانونی اداروں کے خلاف بھی صدر کی ہتک عزت کے الزام میں مقدمات چلائے گئے ہیں اورترکی کی عدالتوں نے نو غیرملکیوں کو قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

واضح رہے کہ ترکی کی دستوری عدالت نے 2016ء میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 299 کو کالعدم قرار دینے کی تجویز مسترد کردی تھی۔اس نے قرار دیا تھا کہ یہ دفعہ امن عامہ کو برقرار رکھنے اور جمہوری معاشرے کے لیے ناگزیرہے۔