.

سعودی عرب میں کرونا وائرس کی نئی شکل کی ابھی تک تشخیص نہیں ہوئی : وزارتِ صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں کووِڈ-19 کی تبدیل شدہ نئی شکل سے متاثرہ کسی مریض کی ابھی تک تشخیص نہیں ہوئی ہے۔اس نئے وائرس کا حال ہی میں برطانیہ میں سراغ لگایا گیا ہے اور یہ وہاں سے دوسرے یورپی ممالک میں پھیلا ہے۔

سعودی وزارتِ صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمدالعبدالعالی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’مملکت میں تبدیل شدہ کرونا وائرس کے نئے کیسوں سے متعلق اڑائی جانے والی افواہوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔اب تک اس وائرس کی سعودی عرب میں موجودگی کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔جاری مطالعات میں اس نئے وائرس کے جینیاتی سلسلہ کا سراغ لگایا جارہا ہے۔‘‘

برطانیہ اور دوسرے ملکوں میں اس نئے وائرس کے پھیلنے سے متعلق خبریں منظرعام پر آنے کے بعد سعودی عرب نے حفظ ماتقدم کے طورپر تمام تجارتی پروازیں معطل کردی ہیں،اپنے تمام برّی اور بحری راستے بند کر دیے ہیں،بندرگاہوں اور زمینی گذرگاہوں سے ملک میں داخلے پر پابندی عاید کردی ہے۔

سعودی دارالحکومت الریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سوموار کی شب نیدرلینڈز سے آنے والے 34 مسافر اترے تھے۔ آمد کے بعد ان کے وہاں کووِڈ-19 کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں اور ان کا نتیجہ منفی رہا ہے۔اس کے بعد انھیں 14 روز تک قرنطین میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اس نئے وائرس کا ستمبر میں برطانیہ میں پہلی مرتبہ سراغ لگایا گیا تھا۔اس کے بعد نیدرلینڈز ، اٹلی اور آسٹریلیا میں دسمبر کے اوائل اور وسط میں کیسوں کا پتا چلا ہے۔

وائرس کی اس نئی شکل کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلی شکل کے مقابلے میں 70 فی صد زیادہ تیزی پھیل سکتا ہے اور یہ اسپتالوں میں مریضوں کی زیادہ تعداد کی موجودگی کی وجہ سے پھیلا ہے۔

تاہم اب تک ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ یہ نیا وائرس اصل شکل کے مقابلے میں زیادہ مہلک ہے لیکن بی بی سی کا ایک رپورٹ میں کہنا ہے کہ ابھی اس سے متاثرہ کیسوں کی مزید نگرانی کی ضرورت ہے۔

کرونا وائرس کی نئی شکل پھیلنے کے بعد سعودی عرب کے بعد کویت ، عُمان اور متعدد یورپی ممالک نے برطانیہ سے آنے والے بین الاقوامی مسافروں یا پروازوں کے داخلے پر پابندی عاید کردی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں