.

کروناوائرس:یورپی یونین کی رکن ملکوں کو برطانیہ کے ساتھ سفری پابندیاں عاید کرنے کی سفارش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین نے اپنے رکن27ملکوں کو سفارش کی ہے کہ وہ تاحکم ثاںی برطانیہ کے غیرضروری سفر کی حوصلہ شکنی کریں۔

یورپی یونین کے رکن ممالک برطانیہ میں کرونا وائرس کی نئی شکل کے پھیلنے کے بعد ایڈہاک بنیاد پر سفری پابندیاں عاید کررہے ہیں۔یورپی کمیشن نے ان ممالک پر زوردیا ہے کہ وہ ایک مربوط حکمتِ عملی اختیار کریں لیکن برطانیہ یا یورپ میں پھنسے ہوئے لوگوں کو ان کے آبائی گھروں میں لوٹنے سے نہیں روکیں۔

یورپی یونین کے جسٹس کمشنر ڈائیڈائیر رینڈرس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’رکن ممالک کو برطانیہ کےغیر ضروری سفر کی حوصلہ شکنی کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔اس کے ساتھ ساتھ مکمل سفری پابندی کی صورت میں یورپی یونین اور برطانیہ کے شہریوں کو ان کے گھروں کو واپسی سے نہیں روکا جانا چاہیے۔‘‘

یورپی یونین کی انتظامی شاخ کا کہنا ہے کہ لوگ اگر کرونا وائرس کے ٹیسٹ کی منفی رپورٹ پیش کردیں یا خود کو قرنطین کرلیں تو انھیں ان کے آبائی ممالک یا مرکزی اقامت گاہوں پرلوٹنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں بحری جہازوں ، گاڑیوں یا طیاروں کے ذریعے سفر کرنے والے ٹرانسپورٹ ورکروں کو کسی قسم کی سفری پابندی سے مستثنا ہونا چاہیے۔ضروری طبی عملہ کو بھی قرنطین کے بغیر آزادانہ نقل وحرکت کی اجازت ہونی چاہیے لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ انھیں سفر سے 72 گھنٹے قبل کرونا وائرس کے ٹیسٹ کی منفی رپورٹ پیش کرنا ہوگی۔

برطانیہ میں کرونا وائرس کی نئی لہر پھیلنے کے بعد دنیا کے متعدد ممالک نے اس کے ساتھ سفری روابط منقطع کر دیے ہیں۔برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ہفتے کے روز لندن اور دوسرے علاقوں میں کووِڈ-19 کو پھیلنے سے روکنے کے لیے نئی سخت پابندیاں نافذ کردی تھیں اور کہا تھا کہ کرسمس سے قبل کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں