.

قطری میڈیا خلیج بحران کے حل کے لیے کوششوں کو نقصان پہنچا رہا ہے: انورقرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیرمملکت برائے امور خارجہ انورقرقاش نے کہا ہے کہ قطر کا میڈیا خلیج بحران کے حل کے لیے کوششوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

انھوں نے منگل کے روز ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’’خلیج کا سیاسی اور سماجی ماحول قطری بحران کے حل کے لیے سازگارہورہا ہے اور دوحہ کے کسی سمجھوتے کے لیے عزم کی صورت میں ضمانت دینے کو تیار ہے لیکن قطری میڈیا کسی بھی ممکنہ سمجھوتے کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔‘‘

ان کا کہنا ہے کہ ’’یہ ایک ناقابل وضاحت عجیب اور مشکل صورت حال ہے۔‘‘ تاہم انور قرقاش نے یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ وہ کس میڈیا کی بات کررہے تھے۔

تاہم ان کے اس بیان سے ایک روز قبل ہی قطر کے سرکاری فنڈز سے چلنے والے الجزیرہ چینل نے کہا تھا کہ ’’اس سے وابستہ بعض صحافیوں کے فون ہیک کیے جارہے ہیں۔‘‘اس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس ’’حملے‘‘ کا ممکنہ طور پرسعودی عرب اور یو اے ای کی حکومتوں سے تعلق ہے۔‘‘

واضح رہے کہ یو اے ای نے سعودی عرب ، بحرین اور مصر کے ساتھ مل کر جون 2017ء میں قطر کے ساتھ سفارتی ، تجارتی اور ٹرانسپورٹ کے روابط منقطع کر لیے تھے۔ ان چاروں نے قطر پر دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام عاید کیا تھا لیکن دوحہ نے اس الزام کو مسترد کردیا تھا۔

گروپ چار نے قطر پر دہشت گرد گروپوں کی پشت پناہی کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ اس نے ان گروپوں کو اپنے نظریے کی تشہیر کے لیے سرکاری میڈیا اور بالخصوص الجزیرہ چینل کا پلیٹ فارم مہیا کررکھا ہے۔

اس نے قطر کو تعلقات کی بحالی کے لیے تیرہ مطالبات پیش کیے تھے اور اس سے کہا تھا کہ وہ الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل کو بند کردے ،اپنے ہاں ترکی کا فوجی اڈا ختم کرے، الاخوان المسلمون سے ہر طرح کے روابط منقطع کرلے اور ایران کے ساتھ تعلقات پر بھی نظرثانی کرے۔

قبل ازیں اسی ماہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا تھا کہ خلیج کے سفارتی بحران کے حل کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔اس عمل میں تمام حکومتوں کو شامل کیا گیا ہے اوراس ضمن میں حتمی سمجھوتا بہت جلد متوقع ہے۔