.

بلوچستان میں دہشت گردوں کے حملے میں سات پاکستانی فوجی شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں دہشت گردوں کے حملے میں سات فوجی شہید ہوگئے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں واقع شہ رگ کے علاقے میں ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب فرنٹیئرکور کی ایک چیک پوسٹ پر نزدیک واقع پہاڑی چوٹیوں سے دہشت گردوں نے خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ کی تھی اور راکٹ بھی داغے تھے۔

پاک فوج نے بتایا ہے کہ ’’ حملے کے بعد تمام علاقے کا محاصرہ کر لیا گیا ہے اور فرار کے تمام راستے مسدود کردیے گئے ہیں اور علاقے میں تلاشی کی کارروائی جاری ہے۔‘‘

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’فائرنگ کے شدید تبادلے کے نتیجے میں سات فوجیوں نے جامِ شہادت نوش کرلیا ہے۔‘‘

آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ’’ریاست مخالف قوتوں کے ایماء پر تخریب کارعناصر کی اس طرح کی بزدلانہ کارروائیوں کے ذریعے بلوچستان کے امن وخوش حالی کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘‘

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ میں دہشت گردوں کے حملے میں فوجیوں کی شہادت پر گہرے دُکھ اورافسوس کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہماری قوم بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے حملوں کے مقابلے میں دلیرفوجیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔‘‘

اس واقعہ سے پانچ روز قبل بلوچستان کے ضلع آواران میں سراغرسانی کی بنیاد پر فوجی کارروائی میں دس مشتبہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں مختلف قوم پرست گروپ برسرپیکار ہیں اور ان سے وابستہ مسلح جنگجو سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں۔پاکستان روایتی حریف بھارت پر ان قوم پرست مسلح گروپوں کی پشتیبانی کا الزام عاید کرتا چلا آرہا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ بھارت ہی بلوچ قوم پرست مسلح گروپوں کو اسلحہ مہیا کررہا ہے اور جنگی تربیت دے رہا ہے۔