.

سعودی عرب :7 لاکھ سے زیادہ افراد کا کووِڈ-19 کی ویکسین لگوانے کے لیے اندراج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں سات لاکھ سے زیادہ افراد نے کرونا وائرس کی ویکسین لگوانے کے لیے اپنے ناموں کا اندراج کرایا ہے۔ ان میں مملکت کے شہری اور مکین دونوں شامل ہیں۔

سعودی عرب کی وزارتِ صحت نے 15 دسمبر کو اپنی موبائل فون ایپلی کیشن صحتی کے ذریعے ویکسین لگوانے کے خواہاں شہریوں اور مکینوں کی رجسٹریشن کا آغاز کیا تھا۔

وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبدالعالی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ویکسین مختلف مراحل میں لگائی جائے گی اور معاشرے کے تمام ارکان مفت یہ ویکسین لگوا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’’مملکت میں 2021ء کے آخر تک کرونا وائرس کی ویکسینیں وافرتعداد میں دستیاب ہوں گی اور یہ ملک کی 70 فی صد آبادی کے لیے کافی ہوں گی۔‘‘

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے گذشتہ جمعہ کو ویکسین کی پہلی خوراک لگوائی تھی۔اس کے بعد سے سعودی وزیر صحت ڈاکٹر توفیق الربیعہ کے بہ قول کووِڈ-19 کی ویکسین لگوانے کے لیے اپنے ناموں کا اندراج کرانے والے افراد کی تعداد میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔

سعودی عرب کی فوڈ اور خوراک اتھارٹی نے اسی ماہ امریکا کی دواساز فرم فائزر کی جرمن کمپنی بائیواین ٹیک کے اشتراک سے تیارکردہ کووِڈ-19 کی ویکسین کو مملکت میں استعمال کرنے کی منظوری دی تھی۔اس کے بعد گذشتہ ہفتے اس کی پہلی کھیپ سعودی عرب پہنچی تھی۔

سعودی عرب میں فائزر کی مہیا کردہ ویکسین تین مراحل میں لگائی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں 65 سال سے زاید عمر کے شہریوں اور مکینوں کو ترجیح دی جارہی ہے۔اس کے علاوہ کرونا وائرس کے خلاف محاذِ اوّل پر لڑنے والے طبّی عملہ اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور پہلے سے مختلف دائمی امراض کا شکار افراد کو ویکسین کی پہلی خوراک لگائی جارہی ہے۔

وزارت صحت کے مطابق موٹاپے کا شکار افراد ،ذیابطیس یا دمے میں سے کسی ایک عارضے میں مبتلا افراد،گردے اور دل کے دائمی عارضے کا شکار افراد کو بھی پہلے مرحلے میں کرونا وائرس کی ویکسین لگائی جائے گی۔

دوسرے مرحلے میں 50 سال سے زیادہ عمر کے افراد ، پہلے مرحلے میں رہ جانے والے طبی عملہ اور مختلف عوارض کا شکار دائمی مریضوں کو ویکسین لگائی جائے گی۔ تیسرے مرحلے میں باقی بچ جانے والے افراد یا ویکسین لگوانے کے خواہاں کسی بھی فرد کو انجیکشن لگایا جائے گا۔

وزارت نے واضح کیا ہے کہ حاملہ خواتین یا بچّوں کو دودھ پلانے والی ماؤں یا آیندہ دو ماہ میں امید سے ہونے کی خواہاں خواتین،شدید الرجی کا شکار افراد اور گذشتہ 90 روز کے دوران میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کو ویکسین نہیں لگائی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں