.

روس: چیچن دارالحکومت گروزنی میں پولیس پر دہشت گردوں کا حملہ ، تین افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کی مسلم اکثریتی جمہوریہ چیچنیا کے دارالحکومت گروزنی میں سوموار کو دہشت گردوں کے حملے اور سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اس شورش زدہ جمہوریہ کے صدر رمضان قادریوف نے بتایا ہے کہ گروزنی کے وسط میں چاقوؤں سے مسلح دو دہشت گردوں نے پولیس سے ہتھیار چھیننے کی کوشش کی تھی لیکن سکیورٹی اہلکاروں نے انھیں گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ ان دہشت گردوں کے چاقوحملے میں ایک افسر مارا گیا ہے اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔دونوں حملہ آور سگے بھائی تھے اور ہمسایہ جمہوریہ انگشتیا سے 2012ء میں چیچنیا میں منتقل ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ شمالی قفقاز کے خطے میں روس کی مسلح افواج نے 1990ء کے عشرے اور 2000ء کے اوائل میں چیچن علاحدگی پسندوں کے خلاف دو خونریز جنگیں لڑی تھیں۔

اب صدر رمضان قادریوف چیچنیا میں آہنی ہاتھوں سے حکومت کررہے ہیں۔ان پر حکومت مخالفین کو تشدد کا بنانے اور قید وبند میں ڈالنے کے الزامات عاید کیے جاتے ہیں۔انھیں انسانی حقوق کے کارکنان کے خلاف کارروائیوں پر بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ان ہی الزامات کی بنا پر امریکا نے جولائی میں ان کے خلاف پابندیاں عاید کردی تھیں۔

تینتالیس سالہ قادریوف بعض اوقات جائے وقوعہ پر انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران میں خود احکامات جاری کرتے دیکھے گئے ہیں اور ان کارروائیوں میں مشتبہ دہشت گردوں کو زندہ گرفتار کرنے کے بجائے ہلاک کردیا جاتا ہے۔

حالیہ برسوں کے دوران میں پولیس پر مسلح افراد کے حملوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم ایسے حملے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے ہیں اور علاحدگی پسند یا انتہا پسند جنگجو سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

اکتوبر میں گروزنی میں انسداد دہشت گردی کی ایک کارروائی کے دوران میں چھے افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان میں سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ روس کی حزب اختلاف نے رمضان قادریوف پر 2015ء میں کریملن کے شدید ناقد بورس نیمتسوف کے قتل کے واقعے میں بھی ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا تھا لیکن چیچن لیڈر نے اس الزام کو مسترد کردیا تھا جبکہ کریملن نے اس معاملے میں ان کا ساتھ دیا تھا۔

چیچنیا کی سکیورٹی فورسز کے ایک افسر پر نیمتسوف کو کریملن سے متصل ایک پُل پر گولی مارنے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا تھا اور عدالت نے اس افسر کو قصور وار ثابت ہونے پر بیس سال قید کی سزا سنائی تھی۔