.

کیا بھارتی پنجاب میں سراپا احتجاج کسانوں کا رُخ ٹیلکام ٹاوروں کی جانب مُڑگیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی ریاست پنجاب میں حکام نے سیکڑوں ٹیلکام ٹاوروں کی برقی رومنقطع ہونے کے واقعات کی تحقیقات شروع کردی ہے اور نئے زرعی قوانین کے خلاف سراپا احتجاج کسانوں پراس تخریب کاری میں ملوّث ہونے کے الزامات عاید کیے جارہے ہیں۔

پنجاب حکومت کے ایک سینیر عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ’’ پولیس کو انفرااسٹرکچر کی تخریب کاری میں ملوّث تمام افراد کا سراغ لگانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔‘‘

پنجاب کے ایک سینیر پولیس افسر نے کہا ہے کہ ’’ریاست میں متعدد ٹیلکام ٹاوروں کو بجلی کی سپلائی منقطع ہوئی ہے۔ان میں زیادہ تر جیو کے ملکیتی ہیں۔‘‘یہ موبائل فون کمپنی مکیش امبانی کی ملکیتی ریلائنس انڈسٹریز کا حصہ ہے۔

جیو کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ ان کے 9000 میں سے 1400 ٹاوروں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ان کی بجلی اور فائبر منقطع کردی گئی ہے لیکن وہ اس بات کی تصدیق نہیں کرسکتے کہ یہ کام کسانوں ہی نے کیا ہے۔

اس ذریعے کا کہنا تھا کہ ایک جگہ پر جیو کے فائبر کے گٹھوں کو نذرآتش کردیا گیا ہے۔انھیں بچھانے کے لیے وہاں رکھا گیا تھا۔تاہم خود جیو کمپنی نے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

ٹاور اور انفرااسٹرکچر مہیّا کرنے والی تنظیم (ٹیپا) کے ڈائریکٹرجنرل تلک راج دعا کا کہنا ہے کہ ’’بجلی منقطع ہونے سے کم سے کم 1600 ٹاور متاثر ہوئے ہیں اور کم سے کم 30 کو نقصان پہنچا ہے۔‘‘

ان کا کہنا ہے کہ ’’ایسوسی ایشن اس بات کے تعیّن کی کوشش کررہی ہے کہ کس کس کمپنی کے ٹاور متاثر ہوئے ہیں۔اس نے پنجاب میں پولیس کو ٹاوروں کے تحفظ کی درخواست کی ہے۔‘‘

کسان گذشتہ اڑھائی ماہ سے وزیراعظم نریندرمودی کی حکومت کی متعارف کردہ زرعی اصلاحات سے متعلق تین متنازع قوانین کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور حکومت سے انھیں منسوخ کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔کسانوں نے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے نواح میں واقع پانچ بڑی شاہراہوں پر دھرنا دے رکھا ہے۔ان کاکہنا ہے کہ مرکزی حکومت ’’کالے قوانین‘‘ کو منسوخ نہیں کردیتی،اس وقت تک وہ اپنی احتجاجی تحریک جاری رکھیں گے۔

احتجاج کرنے والے کسانوں اور کاشت کاروں میں زیادہ تر کا تعلق ریاست پنجاب اور ہریانہ سے ہے۔ انھوں نے نئی دہلی کی جانب جانے والی شاہراہوں پر احتجاجی کیمپ لگا رکھے ہیں۔

اس بحران کے حل کے لیے کسان لیڈروں کی بھارتی حکومت سے بات چیت میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے جبکہ احتجاجی لیڈروں نے حکومت کی جانب سے نئے قوانین کی بعض متنازع شقوں میں ترامیم کی پیش کش کو مسترد کردیا ہے اور وہ بدستور تینوں قوانین کی مکمل تنسیخ کا مطالبہ کررہے ہیں۔

لیکن نریندرمودی اوران کے وزراء کا کہنا ہے کہ ان قوانین سے کسانوں کی آمدن میں اضافہ ہوگا کیونکہ ان سے وال مارٹ ،ریلائنس انڈسٹریز اور اڈانی انٹرپرائزز ایسے ادارے براہِ راست اجناس خرید لیں گے اور کمیشن ایجنٹ یا آڑھتی بیچ میں نہیں آئیں گے۔

ریاستِ پنجاب کی حکومت بھی نئے زرعی قوانین کی مخالفت کررہی ہے۔کسانوں کی یونینوں اور وفاقی حکومت کے حکام کے درمیان اب منگل کو مذاکرات کا ساتواں دور ہوگا۔