.

متحدہ عرب امارات میں کووِڈ-19 کی نئی قسم کے محدود تعداد میں کیسوں کی تشخیص

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات میں بیرون ملک سے آنے والے مسافروں میں سے بعض میں کروناوائرس کی نئی قسم کی موجودگی کی تشخیص ہوئی ہے۔

اماراتی حکومت کے سرکاری ترجمان ڈاکٹرعمر عبدالرحمان الحمادی نے منگل کے روز ایک بیان میں ان نئے کیسوں کی تصدیق کی ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ ’’برطانیہ میں کروناوائرس کی نئی قسم کے ظہور کے بعد شعبہ صحت نے مسلسل تحقیقات جاری رکھی ہوئی ہے۔اب یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ملک میں محدود تعداد میں نئے قسم کے وائرس کے متاثرہ افراد موجود ہیں اور وہ بیرون ملک سے اس نئی قسم سے متاثر ہوئے تھے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہم کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے تمام احتیاطی تدابیر کی پاسداری جاری رکھیں گے تاکہ ہر کسی کی صحت وسلامتی کو یقینی بنایا جاسکے۔وزارت صحت کے کارکنان وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کاوشیں جاری رکھیں گے۔‘‘

اب تک دنیا بھر میں کووِڈ-19 کی دو نئی قسمیں سامنے آ چکی ہیں۔ ان میں ایک وائرس کی برطانیہ میں تشخیص ہوئی تھی اور ایک کا جنوبی افریقا میں موجود ہونے کا پتا چلا ہے۔

برطانیہ میں پھیلنے والی کرونا وائرس کی نئی شکل کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ یہ ایک فرد سے دوسرے فرد میں زیادہ تیزی سے منتقل ہوتی ہے۔برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے اگلے روز کہا تھا کہ ’’وائرس کی نئی قسم دنیا میں چین سے پھیلنے والے کووِڈ-19 کے مقابلے میں 70 فی صد زیادہ تیزی سے ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہوتا ہے۔‘‘

حالیہ دنوں میں کروناوائرس کی نئی قسم سے متاثرہ مریضوں کے تجزیے کے بعد یہ کہا گیا تھا کہ اس کی علامات زیادہ خطرناک نہیں ہیں۔برطانیہ اور جنوبی افریقا سے پھیلنے کے بعد اب پرتگال ،فرانس ، اردن اور جنوبی کوریا میں بھی اس نئی قسم سے لوگ متاثر ہوچکے ہیں۔

قبل ازیں متحدہ عرب امارات کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ کروناوائرس کے یومیہ کیسوں کی تعداد میں ایک مرتبہ پھر اضافہ شروع ہوگیا ہے اور گذشتہ 24 گھنٹے میں کووِڈ-19 کے 1506 نئے کیسوں کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ پہلے سے اس مہلک وائرس کا شکار1475 مریض صحت یاب ہوگئے ہیں۔

یو اے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق اب اس مہلک وائرس کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد 204369 ہوگئی ہے۔منگل کے روز کووِڈ-19 کے مزید دو مریض وفات پا گئے ہیں اورکل وفات پانے والے مریضوں کی تعداد 662 ہوگئی ہے۔