.

ترکی کی حزب اختلاف ملک میں پارلیمانی نظام کی بحالی کے لیے متحد

طیب ایردوآن پرشخصی اقتدار کو فروغ دینے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد'امہ الائنس' نے ملک میں‌ پارلیمانی نظام کی بحالی کے لیے جدوجہد تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ کے مطابق ترکی کی اپوزیشن جماعت 'پیپلپز ری پبلیکن' کے سربراہ کمال کلیچدار اوگلو نے کہا ہے کہ امہ الائنس عن قریب ملک میں‌ پارلیمانی نظام کی بحالی کے لیے اپنا روڈ میپ پیش کرے گا۔ ترک اخبار'الاحوا' کے مطابق اپوزیشن جماعتیں ملک میں پارلیمانی نظام کی بحالی کے لیے متحد ہیں اور وہ صدر طیب ایردوآن پر شخصی اقتدار اور آمریت کو فروغ دینے کا الزام عاید کرتی ہیں۔

کلیچدار اوگلو نے ایردوآن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ فرد واحد کی حکومت میں‌کوئی خوبی نہیں ہے۔

ادھر ترکی کی ڈیموکریٹک پروگریسیو پارٹی کے صدر علی بابا جان نے ملک کی اقتصادی صورت حال پر بات کرتے ہوئے اس کی ذمہ داری حکومت پر عاید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معیشت مسلسل پیچھے کی طرف جا رہی ہے۔ ملک میں صدارتی نظام نےشہری آزادیوں اور انسانی حقوق کو بھی قید کردیا گیا ہے۔

علی بابا جان نے انقرہ میں اپنی پارٹی کارکنوں سے خطاب میں کہا کہ ہم ایسے ملک میں جی رہے ہیں‌ جس میں ہرطرف بھوک، افلاس اور غربت ہے۔ لوگ عدم مساوات کا شکار ہیں۔ حکومت کی غلط پالیسیوں سے لگتا ہے کہ وہ غریبوں کی ایک فوج تیار کر رہی ہے۔ حکومت کی ناقص پالیسیوں اور اقدامات کے نتیجے میں بدانتظامی پھیلی ہے۔