.

عدن: نئی کابینہ کے طیارے کی ہوائی اڈے آمد پرحملہ،26 افراد ہلاک ، متعدد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جنوبی شہر اور عارضی دارالحکومت عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر نئی کابینہ کے طیارے کی آمد پر بم حملے کے نتیجے میں 26 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

عدن سے العربیہ کے نمایندے نے بتایا ہے کہ ہوائی اڈے پر ایک مارٹر گولا گرا تھا جس سے ایک زور دار دھماکا ہوا تھا۔اس وقت یمن کی قومی اتحاد کی کابینہ کے ارکان طیارے سے اُتر رہے تھے۔عدن کے اسپتال کے ذریعے کا کہنا ہے کہ دھماکے میں 50 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ہوائی اڈے پر صحافیوں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ان میں سے مقامی بلقیس ٹی وی سے وابستہ ایک صحافی ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔

رپورٹر نے ابتدائی اطلاعات کے حوالے سے کہا ہے کہ اس حملے میں یمنی کابینہ کا کوئی وزیر زخمی نہیں ہوا ہے۔فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے نمایندے نے جائے وقوعہ سے بتایا ہے کہ یمن کی قومی اتحاد کی نئی کابینہ کا طیارہ ہوائی اڈے پر اترنے کے فوری بعد دھماکے ہوئے تھے۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ جب کابینہ کے ارکان طیارے سے اتر رہے تھے تو اس وقت دو دھماکے ہوئے ہیں۔ایک مقامی سکیورٹی ذریعے کا کہنا ہے کہ تین مارٹر گولے ائیرپورٹ کے ہال پر گرے تھے۔

یمن کے وزیراطلاعات معمرالاریانی نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں پر اس حملے میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا ہے لیکن فوری طور پر کسی گروپ نے اس تباہ کن حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

حملے کے بعد وزیراعظم معین عبدالمالک سمیت کابینہ کے وزراء اور یمن میں متعیّن سعودی سفیر محمد سعید ال جابر کو باحفاظت شہر کے صدارتی محل میں منتقل کردیا گیا ہے۔

یمنی وزیراعظم نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’عدن کے ہوائی اڈے پر دہشت گردی کی یہ بزدلانہ کارروائی یمنی ریاست اور اس کے عظیم عوام کے خلاف مسلط کردہ جنگ کا حصہ ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس نے ہوائی اڈے پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس کو تشدد کی ناقابلِ قبول کارروائی قراردیا ہے۔انھوں نے حملے میں مہلوک شہریوں کے لواحقین سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے یمن کی نئی کابینہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہارکیا ہے اورکہا ہے کہ ’’تشدد کا یہ ناقابل قبول واقعہ یمن کو فوری طور پرامن کی راہ پر لوٹانے کی یاددہانی کراتا ہے۔‘‘