.

سوڈان کا ایتھوپیا کے ساتھ واقع سرحد پر مکمل کنٹرول بحال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کی فوج نے ایتھوپیا کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں اپنا کنٹرول مکمل طور پربحال کر لیا ہے۔سوڈان کے اس علاقے پرایتھوپیا کے کسانوں نے قبضہ کر لیا تھا۔

سوڈانی وزیرخارجہ عمرقمرالدین نے جمعرات کے روز خرطوم میں پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’’مسلح افواج نے تمام سوڈانی علاقے کو مکمل طور پر بازیاب کرا لیا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’سرحدوں کی پہلے ہی حد بندی کرلی گئی ہے۔البتہ ابھی سرحد پر مزید نشانات لگانے کے بارے میں بات چیت کی جارہی ہے۔‘‘

سوڈان اورایتھوپیا کے درمیان الفاشقہ کے علاقے پر تنازع پایا جاتا ہیں۔اس علاقے میں دراندازی کے بعد ایتھوپیائی کسانوں نے فصلیں کاشت کرلی تھیں۔

اس علاقے میں گذشتہ کئی برسوں سے وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں اور تازہ لڑائی نومبر میں چھڑی تھی۔ تب ایتھوپیا کی وفاقی حکومت نے اپنے علاقے تغاری کے مقامی حکام کے خلاف کارروائی کے لیے اپنے فوجی بھیج دیے تھے۔

اس کے بعد 50 ہزار ایتھوپیائی مہاجرین جنگ سے بچنے کے لیے سرحدی علاقے کی جانب چلے گئے تھے۔دسمبر کے اوائل میں خرطوم حکومت نے ایتھوپیا کی فورسزاور ملیشیاؤں پر سرحدی علاقے میں سوڈانی فوجیوں پر حملے کا الزام عاید کیا تھا۔اس حملے میں چار فوجی ہلاک اور 20 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

عدیس ابابا نے اس حملے سے متعلق رپورٹس کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے لیے کوئی خطرات پیدا نہیں ہوئے تھے۔

اس واقعے کے بعد سے سوڈان نے سرحدی علاقے میں اپنے فوجی تعینات کررکھے ہیں۔تب سے وہ ایتھوپیا کے ساتھ سرحد کی حدبندی کے لیے بات چیت کررہا ہے۔

ایتھوپیا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان دینا مفتی نے بیرونی قوتوں کو سوڈان کے ساتھ کشیدگی کا مورد الزام ٹھہرایا تھا۔انھوں نے بدھ کو ایک نیوزبریفنگ میں کہا تھا کہ ’’ان قوتوں کو ایتھوپیائی اور سوڈانی عوام کا کوئی خیال نہیں۔وہ خطے کو افراتفری کا شکار کرنا چاہتے ہیں اور پھر اس صورت حال سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔‘‘