.

صدر ٹرمپ نے ایران مخالف جنگ کے لیے فضا سازگار بنانے کی کوشش کی: جوادظریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے’’عراق سے موصولہ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنا پردعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے سبکدوش ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے لیے ’’من گھڑت کہانئ‘‘ کی سازش کے ذریعے فضا سازگار بنانے کی کوشش کی ہے۔

ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کےحواریوں نے امریکا میں کووِڈ-19 کی وبا سے نمٹنے پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے ہمارے خطے میں بی 52 بمبار طیارے اڑانے اور جنگی بحری جہاز بھیجنے پر اربوں ڈالر اڑا دیے ہیں۔‘‘

امریکا کا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس نیمز نومبر سے خلیج کے پانیوں میں موجود ہے۔حال ہی میں امریکا کے دو بی 52 بمبار طیارے بھی خطے کی فضاؤں میں اڑتے دیکھے گئے ہیں۔

جواد ظریف نے لکھا ہے کہ ’’ایران جنگ نہیں چاہتا ہے لیکن وہ اپنے عوام ،سلامتی اور اہم مفادات کا کھل کر اور براہِ راست دفاع کرے گا۔‘‘

انھوں نے یہ بیان ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے تحت القدس فورس کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی کی پہلی برسی سے تین روز پہلے جاری کیا ہے۔قاسم سلیمانی اور ایران کی حمایت یافتہ عراق کی شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابومہدی المہندس تین جنوری 2020ء کو امریکا کے بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

صدر ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ اگرعراق میں کسی امریکی پر حملہ کیا جاتا ہے تو وہ ایران کو اس کا ذمہ دار گردانیں گے۔انھوں نے 20 دسمبر کو بغداد میں امریکی سفارت خانے پر راکٹ حملے کا ایران ہی کو موردالزام ٹھہرایا تھا۔

تب جواد ظریف نے امریکی صدر کو خبردار کیا تھا کہ وہ وائٹ ہاؤس کو 20 جنوری کو چھوڑنے سے قبل کسی قسم کی مہم جوئی سے باز رہیں۔انھوں نے صدر ٹرمپ کو مخاطب ہو کر کہا تھا کہ ’’اگر آپ بیرون ملک اپنے شہریوں کو خطرے سے دوچار کرنے کا موجب بنتے ہیں تو اس سے اندرون ملک اپنی خطرناک حد تک ناکامی سے لوگوں کی توجہ ہٹا نہیں سکیں گے۔‘‘

واضح رہے کہ 2019ء کے آخر سے عراق میں امریکی سفارت خانے ،غیرملکی فوجی اور سفارتی تنصیبات کو بیسیوں مرتبہ راکٹ حملوں یا سڑک کے کنارے نصب بموں سے نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اپنے چار سالہ اقتدار میں ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھنے کی مہم پر عمل پیرا رہی ہے۔صدر ٹرمپ نے مئی 2018ء میں ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پردستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے ایران کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عاید کرنا شروع کردی تھیں۔

امریکا کی ایران پر پابندیوں کا ایک مقصد اس کی تیل کی برآمدات کو روکنا تھا۔تیل ایران کی آمدن کا بڑا ذریعہ ہے لیکن امریکی پابندیوں کے نتیجے میں اس کی تیل کی برآمدات نصف سے بھی کم ہو کر رہ گئی ہیں۔ان منفی مضمرات کے باوجود ایران کا یہ دعویٰ ہے کہ امریکا کی عاید کردہ پابندیاں کوئی زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوئی ہیں۔