.

عدن کا حملہ یمن کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش ہے: واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز یمن کے جنوبی شہر عدن کے ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

جمعرات کے روز جاری بیان میں وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ حملہ یمن کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششوں میں مصروف عناصر کے شرپسند ارادوں کو ظاہر کرتا ہے۔ ساتھ ہی باور کریا گیا ہے کہ یہ حملے یمنی بحران کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو ہر گز نہیں روک سکیں گے۔

امریکی وزارت خارجہ نے یمن میں پرتشدد کارروائیاں روکے جانے اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں پیش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ بیان میں باور کرایا گیا کہ امریکا یمنیوں کے بہتر مستقبل کی خاطر یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرتا ہے۔

واضح رہے کہ یمنی وزیر اطلاعات نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ حوثی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے عدن کے ہوائی اڈے پر حملے میں ایک صحافی کی ہلاکت اور تقریبا 10 کے زخمی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ الاریانی نے عالمی برادری سے یہ اپیل کی کہ حوثی قیادت کے خلاف جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزام میں عدالتی کارروائی کی جائے۔

یاد رہے کہ بدھ کے روز یمن کی نئی کابینہ کو لے کر ایک طیارہ عدن کے ہوائی اڈے پر پہنچا تھا جس کے کچھ دیر بعد ہوائی اڈے پر تین زور دار دھماکے ہوئے۔ ذرائع کے مطابق حملے میں راکٹوں یا ڈرون طیاروں کا استعمال کیا گیا۔ یمنی وزیر صحت کے مطابق واقعے میں 22 افراد ہلاک اور تقریبا 50 زخمی ہو گئے۔

حملے میں نئی کابینہ کے کسی رکن کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ وزیر اعظم معین عبدالملک اور دیگر وزراء کو محفوط طور پر شہر میں صدارتی محل منتقل کر دیا گیا۔