.

کروناوائرس:یواے ای میں نئے سال کی تقریبات اور اجتماعات پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات نے نئے سال کے آغاز کے موقع پر کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے روایتی اجتماعات اور تقریبات پر پابندیاں عاید کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یو اے ای کی نیشنل کرائسیس اور ایمرجنسی اتھارٹی (این سیما) نے کہا ہے کہ نئے سال پر’’ریاست کی سطح پر کنٹرول ٹیموں کو فعال کردیاجائے گا اور منظور شدہ قوانین اور طریق کار پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔‘‘

اتھارٹی نے سالِ نو کے موقع پر ان نئی پابندیوں کا اعلان یو اے ای میں گذشتہ چار روز میں کرونا وائرس کے کیسوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے پیش نظر کیا ہے۔

امارت دبئی نے 26دسمبر کو نئے سال کے موقع پر 30 سے زیادہ افراد کے اجتماعات پر پابندی عاید کردی تھی جو کوئی اس پابندی کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا اس کو 50 ہزار درہم (13ہزار ڈالر) جرمانہ عاید کیا جائے گا۔تقریب کے ہرشریک کو 15ہزار درہم (چار ہزار ڈالر) جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔

یو اے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق سماجی اجتماعات کے تمام شرکاء کو چہرے پر ماسک پہننا ہوگا اور ہرمہمان کے لیے چار مربع فٹ کا رقبہ مختص ہونا چاہیے۔

امارات نے ضعیف العمر یا دائمی امراض کا شکار افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ نئے سال کے موقع پر منعقد ہونے والے ایسے اجتماعات میں شرکت سے گریز کریں۔نیزاگر کسی شخص کو کھانسی یا بخار ایسی علامات ظاہر ہورہی ہیں،اس کو بھی ایسے اجتماعات میں شرکت سے گریز کرنا چاہیے۔