.

افغانستان میں فائرنگ سے ریڈیو صحافی قتل ،دو ماہ میں پانچویں میڈیا ورکر کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے وسطی صوبہ غور میں جمعہ کے روز نامعلوم کار سواروں نے ایک صحافی کو گولی مار کر قتل کردیا ہے۔جنگ زدہ ملک میں گذشتہ دو ماہ میں یہ پانچویں میڈیا ورکر کی ہلاکت ہے۔

گورنرغور کے ترجمان عارف ابر نے بتایا ہے کہ ’صوتِ غور ریڈیو‘ کے ایڈیٹر انچیف بسم اللہ عادل اعماق صوبائی دارالحکومت فیروزکوہ کی جانب آرہے تھے لیکن انھیں راستے ہی میں گولی مار کر قتل کردیا گیا ہے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے ان کے قتل کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔افغان صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔

حالیہ مہینوں کے دوران میں متعدد معروف افغان شخصیات اور میڈیا ورکروں کو مسلح افراد نے فائرنگ کرکے یا بم حملوں میں ہلاک کردیا ہے۔12 دسمبر کو مشرقی شہرغزنی میں مسلح افراد نے ایک اور صحافی رحمت اللہ نیک زاد کو ان کے گھر کے نزدیک گولی مار کر قتل کردیا تھا۔

افغانستان کی خفیہ ایجنسی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی ( این ڈی ایس) نے جمعرات کو دو طالبان کو نیک زاد کے قتل کے الزام میں گرفتار کرنے کی اطلاع دی تھی۔ ان دونوں کو افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے نتیجے میں قیدیوں کے تبادلے کے لیے طے شدہ سمجھوتے کے تحت رہا کیا گیا تھا۔

طرفین کے درمیان اس سمجھوتے کے تحت قریباً پانچ ہزار طالبان کو افغان جیلوں اور حراستی مراکز سے رہا کیا گیا تھا۔

این ڈی ایس نے کہا ہے کہ دونوں طالبان قیدیوں نے جیل سے رہائی کے بعد غزنی میں ایک دہشت گرد گروپ میں شمولیت اختیارکر لی تھی۔اس گروپ نے اس صوبہ میں متعدد قاتلانہ حملے کیے ہیں اور لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ دونوں طالبان نے اپنے جرائم کا اقرار کیا ہے۔وہ ایک جج اور دو سرکاری ملازمین کو بھی قتل کرچکے ہیں۔تاہم طالبان نے نیک زاد کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔

واضح رہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں اس وقت عارضی وقفہ ہے اور وہ پانچ جنوری کو دوبارہ شروع ہوں گے۔