.

اسرائیل کو مستقبل قریب میں حزب اللہ کے حملے کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج میں شمالی محاذ کی کمان کے ایک جنرل نے توقع ظاہر کی ہے کہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ مستقبل قریب میں اسرائیل پر حملہ کرے گی۔

اس حوالے سے "اسرائیل ٹُوڈے" اخبار نے مذکورہ افسر کے حوالے سے بتایا ہے کہ شمالی سرحد ایسی کشیدگی کی جانب بڑھ رہی ہے جس کے ساتھ کئی روز تک لڑائی جاری رہ سکتی ہے۔

تاہم اسرائیلی جنرل نے حزب اللہ کو دھمکی دی ہے کہ ان کی فوج ماضی کے بر خلاف کسی بھی حملے کا غیر معمولی طریقے سے جواب دے گی جب کہ اسرائیلی فوج براہ راست فائرنگ سے گریز کرتی تھی۔

گذشتہ برس نومبر میں اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر جلعاد اردان نے سلامتی کونسل کو ایک سرکاری خط پیش کیا تھا جس میں جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی سرگرمیوں کے خلاف فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے ایک سہ ماہی رپورٹ پیش کی تھی جس میں اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درامد پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس قرارداد کی بنیادی شرائط میں یہ بات شامل تھی کہ ملیشیاؤں کو غیر مسلح کیا جائے تا کہ قانون اور لبنانی ریاست کے دائرہ کار سے باہر کوئی اسلحہ باقی نہ رہے۔

البتہ رپورٹ میں حزب اللہ کی جانب سے اس قرار داد کی ان شدید خلاف ورزیوں کا حوالہ دیا گیا جن کے نتیجے جنوبی لبنان میں عسکری کمک میں اضافہ ہوا۔

اس سے قبل اسرائیلی فوج کے ایک کمانڈر رومان گوفمین کا یہ کہنا تھا کہ گولان میں اسرائیلی فوج کے لیے سب سے بڑا شام نہیں بلکہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ ہے۔ گوفمین کے نزدیک ایران اور حزب اللہ شام کے جنوب میں اسرائیل کے خلاف ایک محاذ قائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں جو کہ ایک مرکزی خطرہ ہے۔