.

ایتھوپیین سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں 75 نہتے شہریوں کا بے رحمی سے قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعہ کو ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایتھوپیا کی سیکیورٹی فورسز نے ایک مشہور گلوکار کی ہلاکت کے بعد جون اور جولائی میں خونی بد امنی کے دوران 75 سے زائد افراد کو ہلاک اور 200 کے قریب زخمی کیا۔ سیکیورٹی فورسز نے نسل کشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 30 سے زائد افراد کو ہلاک کیا۔ لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں سڑکوں پر گھیسٹا گیا۔

ایتھوپیا کے انسانی حقوق کمیشن نے جمعہ کے روز جاری کردہ اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران ملک میں نسلی تشدد کی بدترین لہروں میں سے ایک گذشتہ برس دیکھنے میں آئی جس میں 123 افراد ہلاک اور کم از کم 500 زخمی ہوئے ہیں۔ ایتھوپیا میں شہریوں کے خلاف ایک وسیع اور منظم حملہ جس سے انسانیت کے خلاف جرائم کی نشاندہی ہوتی ہے۔

نوبل امن انعام یافتہ وزیر اعظم ابی احمد کے لیے نسلی تشدد ایک بہت بڑا چیلنج ہے جس نے افریقہ کے دوسرے سب سے زیادہ آبادی والے ملک افریقہ کے 80 سے زائد نسلی گروہوں میں قومی اتحاد کی اپیل کی ہے۔

جون اور جولائی میں ہونے والی بدامنی نے گلوکارہ ہالو ہنڈیسا کے قتل کے بعد حکومت مخالف مظاہروں میں نمایاں اضافہ ہوا۔