.

بورس جانسن کے والد اخبارات کی سُرخیوں میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کی حکومت نے برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے والد کی جانب سے فرانسیسی شہریت حاصل کرنے کی کوشش پر مثبت انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ جمعے کے روز اپنے موقف میں فرانس کی حکومت نے کہا کہ یہ چیز یورپی یونین کے ساتھ برطانیہ کے لوگوں کا تعلق ظاہر کر رہی ہے جو اب یونین کا حصہ نہیں رہے۔

اس سلسلے میں اخبارات نے یہ سرخیاں لگائی ہیں کہ بورس جانسن کے والد اسٹینلے جانسن فرانسیسی شہریت کے حصول کے ذریعے یورپ میں قدم برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہیں جب کہ ان کے بیٹے نے یورپی یونین سے برطانیہ کی علاحدگی (بریگزٹ) کے عمل کی قیادت کی۔

فرانس میں یورپی امور کے وزیر کلیمن بون نے جمعے کے روز ایک بیان میں بورس کے والد کی جانب سے شہریت کی درخواست کو یورپ کے لیے برطانیہ کے جذبات و احساسات جاری رہنے کی علامت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسٹینلے جانسن فرانس کی شہریت حاصل کرنے خواہش مند ہیں تو ان کی درخواست کی جانچ کی جائے گی۔ یہ اس جانب اشارہ ہے کہ بہت سے برطانوی اب بھی مختلف طریقوں سے یورپ سے محبت کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ 80 سالہ اسٹینلے جانسن یورپی پارلیمنٹ کے سابق رکن رہ چکے ہیں۔ انہوں نے 2016ء میں بریگزٹ کے حوالے سے منعقد ریفرینڈم میں یورپی یونین کے اندر رہنے کی حمایت کی تھی۔

اسٹینلے جانسن نے جمعرات کے روز RTL چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنی فرانسیسی شناخت "واپس حاصل کرنا" چاہتے ہیں۔ جانسن کا کہنا تھا کہ "یہ فرانسیسی بن جانے کا معاملہ نہیں ہے۔ اگر آپ صحیح طور سے سمجھیں تو میں فرانسیسی ہوں۔ میری والدہ فرانس میں پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ اور نانا بھی مکمل طور پر فرانسیسی تھے"۔

اسٹینلے نے باور کرایا کہ "میں ہمیشہ یورپی رہوں گا۔ آپ کسی انگریز کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ تم یورپی نہیں ہو۔ یورپ ہمیشہ مشترکہ منڈی اور یورپی یونین سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے"۔