.

ایران: سیستان،بلوچستان میں تین بلوچوں کودہشت گردی کی کارروائیوں اورمسلح ڈکیتی پر پھانسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں اتوار کے روز دو افراد کو ’’دہشت گردی کی کارروائیوں‘‘ میں ملوّث ہونے کے جُرم میں پھانسی دے دی گئی ہے۔ایک اور شخص کو مسلح ڈکیتی کے جُرم میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ہے۔

ایرانی عدلیہ کی خبر رساں ایجنسی میزان آن لائن نے اطلاع دی ہے کہ ان تینوں کو جنوب مشرقی صوبہ سیستان، بلوچستان میں علی الصباح تختہ دار پر لٹکایا گیا ہے۔

دہشت گردی کے جرم میں پھانسی پانے والے مجرموں کے نام حسن دہواری اور الیاس قلندرزہی تھے۔انھیں 2014ء میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے قبضے سے دھماکاخیز مواد اور ہتھیار برآمد ہوئے تھے۔میزان نے اطلاع دی ہے کہ عدالت نے ان دونوں کو اغوا ، بم دھماکوں ،سکیورٹی فورسز اور شہریوں کے قتل کے جرم میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا تھا۔وہ انتہاپسند گروپ جیش العدل کے لیے کام کرتے تھے۔

تختہ دارپر لٹکائے گئے تیسرے شخص کا نام اُمید محمود زہی ہے۔ایرانی عدالت نے اس کو مسلح ڈکیتی اور شہریوں کے قتل کے جرم میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا تھا۔

اوّل الذکرمصلوبین حسن دہواری اور الیاس قلندرزہی کے قبضے سے جیش العدل کی بم سازی سے متعلق دستاویزات اور’’تکفیری فتاویٰ‘‘ بھی برآمد ہوئے تھے۔واضح رہے کہ ایران کے شیعہ حکام ’’تکفیری‘‘ کی اصطلاح سخت گیر سُنیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

جیش العدل نے سیستان وبلوچستان کےعلاوہ ایران کے دوسرے علاقوں میں حالیہ برسوں کے دوران میں متعدد بڑے بم حملے کیے ہیں۔گذشتہ سال فروری میں ایک خودکش بم حملے میں ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے 27 اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ جیش العدل ہی نے اس خود کش حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

ایرانی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سخت گیروں نے 2012ء میں اپنی مسلح تنظیم جنداللہ کی جگہ جیش العدل قائم کی تھی۔جنداللہ کوئی ایک عشرے تک ایران میں جنگی کارروائیاں کرتی رہی تھی لیکن 2010ء میں اس کے لیڈر عبدالمالک ریگی کو ایرانی حکام نے گرفتارکر لیا تھا اور پھر تختہ دار پر لٹکا دیا تھا۔اس کی پھانسی کے بعد جند اللہ کی جنگی کارروائیوں میں کمی واقع ہوئی تھی اور اس کی جگہ جیش العدل نے لے لی تھی۔