.

استنبول میں جامعہ کے نئے ریکٹر کے سیاسی تقرر کے خلاف سیکڑوں افراد کا احتجاجی مظاہرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول میں سیکڑوں افراد نے ملک کی تاریخی بڑی یونیورسٹی کے نئے ریکٹر کے تقرر کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر رجب طیب ایردوآن نے یکم جنوری کو سیاسی بنیاد پر ملیح بولو کو جامعہ بوغازی چی کا ریکٹر مقرر کردیا ہے۔

ملیح بولو نے ترکی میں 2015ء میں منعقدہ انتخابات میں صدر ایردوآن کے زیر قیادت حکمران جماعت انصاف اور ترقی (آق) کے ٹکٹ پر بہ طور امیدوار حصہ لیا تھا اور جماعت سے وابستگی کی بنا پر ہی انھیں ممکنہ طور پر جامعہ کا ریکٹر مقرر کیا گیا ہے۔

فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے نمایندے نے بتایا ہے کہ ایک ہزار سے زیادہ افراد نے ریکٹر کے تقرر کے خلاف جامعہ کے کیمپس کے باہر ریلی نکالی ہے۔اس موقع پر بیسیوں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے لیکن انھوں نے کوئی مداخلت نہیں کی تھی۔مظاہرین میں طلبہ بھی شامل تھے اور وہ سیاسی مداخلت پر سخت مشتعل نظر آرہے تھے۔

مظاہرین ملیح بولو کے بہ طور ریکٹر تقرر کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے۔انھوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف نعرے درج تھے۔ان پر لکھا تھا:’’ملیح بولو جامعہ بوغازی چی کے ریکٹر نہیں ہوسکتے۔‘‘،’’وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔‘‘

واضح رہے کہ صدر ایردوآن نے 2016ء میں اپنے خلاف ناکام فوجی بغاوت کے بعد سرکاری جامعات کے ریکٹروں کے براہ راست تقرر کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔اس کے بعد سے وہ متعدد جامعات کے ریکٹروں کو سیاسی بنیاد پر مقرر کرچکے ہیں لیکن یہ پہلا موقع نہیں جب ان کے مقرر کردہ کسی ریکٹر کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے۔جولائی 2016ء سے قبل ترکی میں انتخابی عمل کے ذریعے ریکٹروں کا تقرر کیا جاتا تھا۔

یادرہے کہ امریکا نے 1863ء میں رابرٹ کالج کے نام سے یہ تعلیمی ادارہ قائم کیا تھا۔امریکا سے باہر یہ پہلی امریکی یونیورسٹی تھی۔یہ جامعہ 1971ء میں ترکی کے حوالے کردی گئی تھی اور دریائے باسفورس کے نزدیک واقع ہونے کی بنا پر اس کا نام ترکی میں بوغازی چی رکھا گیا تھا۔ باسفورس کو ترک زبان میں بوغازی چی کہا جاتا ہے۔