.

دبئی اوربھارت کے درمیان ویکسین کی تقسیم کاعمل تیز کرنے کے لیےفضائی راہداری کا سمجھوتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دبئی ائیرپورٹس اور بھارت کے جنوبی شہرحیدرآباد کے ہوائی اڈے کی انتظامیہ کے درمیان فضائی راہداری کا ایک سمجھوتا طے پایا ہے۔اس سمجھوتے کے تحت 300ٹن ویکسینوں کی دنیا بھر میں تقسیم کی جائے گی۔

دبئی اور حیدرآباد کے درمیان فضائی راہداری کو بھارت میں ویکسین کی دواساز فرم کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔پھرحیدرآباد سے ویکسینوں کی کھیپ کو دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے کارگو مرکز پر منتقل کیا جائے گا۔

دبئی ائیرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای او) پال گریفتھس نے کہا ہے کہ’’آیندہ مہینوں کے دوران میں کووِڈ-19 کی ایک مؤثر، محفوظ اورقابل اعتماد عالمی تقسیم کی مانگ میں اضافہ ہوگا۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ ہم اس مانگ کو پورا کرنےکے لیے تیار ہیں۔

واضح رہے کہ حیدرآباد دنیا میں ویکسین کی پیداوار کے اعتبار سے دنیا کے ایک بڑا مرکز کے طور پر اُبھر رہا ہے اورویکسین تیار کرنے والی پانچ دوا ساز کمپنیاں یہیں واقع ہیں۔

بھارت کی ڈرگ اتھارٹی نے اتواربرطانوی کمپنی آسٹرازینیکا اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے اشتراک سے تیار کردہ ویکسین اور ایک مقامی دواساز فرم بھارت بائیوٹیک کی کووِڈ-19 کی ویکسین کے ہنگامی استعمال کی منظوری دی تھی۔

اس منظوری کے بعد آیندہ چند روز میں ایک ارب 30 کروڑ آبادی والے بھارت میں دنیا کی ویکسی نیشن کی سب سے بڑی مہم شروع ہوجائے گی۔بھارت دنیا میں کرونا وائرس سے دوسرا بڑا متاثرہ ملک ہے۔اس میں اب تک کووِڈ-19 کے ایک کروڑ 30 لاکھ کیسوں کی تشخیص ہوچکی ہے۔ان میں سے ڈیڑھ لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔