.

امریکا کی دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے سوڈان کے اخراج کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے دہشت گردی کو اسپانسرکرنے والےممالک کی فہرست سے سوڈان کے نام کے اخراج سے متعلق حکم پر دست خط کردیے ہیں۔

مائیک پومپیو نے منگل کے روزایک ٹویٹ میں کہاہے کہ’’مہینوں کے مذاکرات کے بعد میں نے سوڈان کا نام دہشت گردی کو اسپانسر کرنے والی ریاستوں کی فہرست سے حذف کرنے کے حکم پر دست خط کر دیے ہیں۔اس ضمن میں دہشت گردی سے متاثرہ امریکیوں اور ان کے خاندانوں کوسوڈان سے معاوضہ کی وصولی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ایسا موقع نسلوں میں ایک آدھ بار ہی آتا ہے۔‘‘

امریکا کے سبکدوش ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اکتوبر میں یہ اعلان کیا تھا کہ وہ سوڈان کا نام دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے خارج کردیں گے،اس فہرست میں شمالی کوریا ،ایران اور شام کے نام بھی شامل ہیں۔

انھوں نے اس کی شرط یہ عاید کی تھی کہ سوڈان کو کینیا اور تنزانیہ میں بم دھماکوں کےمہلوکین کے لواحقین اور دہشت گردی کے دیگر متاثرین کو ساڑھے 33 کروڑ ڈالر کی رقم ادا کرنا ہوگی۔ سوڈان نومبر میں یہ رقم امریکا کو منتقل کرچکا ہے۔

امریکا نے 1993ء میں سوڈان کو سابق مطلق العنان صدر عمرحسن البشیر کے دورِحکومت میں دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والاملک قرار دیا تھا۔ تب القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن سوڈان میں مقیم تھےاور وہ وہاں کئی سال تک (اب) برطرف صدرعمر حسن البشیر کے مہمان رہے تھے۔

امریکا کی دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے نام کے اخراج کے بعد سوڈان کا خودمختارانہ استثنا بھی بحال ہوگیا تھا۔سوڈان کی عبوری حکومت نے امریکا سے سمجھوتے کے تحت اسرائیل کو تسلیم کرنے سے بھی اتفاق کیا تھا۔

سوڈان متحدہ عرب امارات اور بحرین کے بعد گذشتہ چار ماہ میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے والا تیسرا ملک تھا۔اس سے پہلے ستمبر2020ء میں متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے طے کیے تھے۔اس کے بعد صدر ٹرمپ کی ثالثی میں مراکش نے بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے کا اعلان کیا تھا۔