.

العُلا اعلامیے پردست خط، درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کاوشوں پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن چھے ممالک کے لیڈروں نے سعودی عرب کے تاریخی شہر العُلا میں منعقدہ سربراہ اجلاس کے موقع پر حتمی اعلامیے پر دست خط کردیے ہیں۔

جی سی سی کے اس سربراہ اجلاس کے میزبان سعودی شہر کے نام پر وضع کردہ اس اعلامیے میں خلیج، عرب اور اسلامی ممالک کے درمیان یک جہتی اور استحکام کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اجلاس سے افتتاحی تقریر میں کہا کہ ’’عرب اور اسلامی ممالک اور ان کے عوام کے درمیان دوستی اور بھائی چارے کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی امیدوں اور امنگوں کو پورا کیا جا سکے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ایرانی نظام سے درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے جی سی سی کو مشترکہ کاوشیں کرنی چاہییں۔‘‘ ان کے بہ قول ایران سے درپیش خطرات میں اس کے جوہری اور بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام، اس کی اپنی اور گماشتہ تنظیموں کی دہشت گردی اور فرقہ وار سرگرمیاں شامل ہیں جن کا مقصد خطے کوعدم استحکام سے دوچار کرنا ہے اور یہ خطہ کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ہے۔

اس سربراہ اجلاس کی خاص بات قطر اور جی سی سی کے دوسرے رکن ممالک کے درمیان تین سال کے بعد تعلقات کی بحالی ہے۔ سعودی عرب نے قطرکے ساتھ سوموار کی شب سے اپنی برّی، بحری اور فضائی سرحدیں کھول دی ہیں اور قطر کا سفارتی، سیاسی اور معاشی بائیکاٹ ختم کردیا ہے۔

العُلا کے تاریخی مرایا ہال میں منعقدہ اجلاس میں امیرِقطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے خود شرکت کی ہے۔ وہ قطر ائیرویز کے خصوصی طیارے کے ذریعے آج العُلا پہنچے تھے اور مرایا ہال میں آمد پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بہ نفس نفیس ان کا استقبال کیا ہے۔

اس اجلاس میں بحرین کے وفد کی قیادت ولی عہد شیخ سلمان بن حمد آل خلیفہ کر رہے ہیں۔وہ سب سے پہلے العُلا میں شہزادہ عبدالمجید بن عبدالعزیز ہوائی اڈے پر پہنچے تھے۔

انھوں نے اپنی آمد پر ایک بیان میں کہا کہ ’’ ہم سعودی عرب کی خلیج تعاون کونسل میں اتحاد برقرار رکھنے کے لیے کاوشوں کو سراہتے ہیں اور اس کے شکرگزار ہیں۔‘‘

متحدہ عرب امارات کے وفد کی قیادت نائب صدر شیخ محمد بن راشدآلِ مکتوم اور عُمان کے وفد کی قیادت نائب وزیراعظم فہد بن محمود آل سعید کر رہے ہیں۔ کویتی وفد کی قیادت خود امیرِ کویت شیخ نواف الاحمد الصباح کررہے ہیں۔