.

شاہ عبدالعزیز لائبریری کے زیرِ اہتمام العلا میں ورچوئل فوٹو نمائش کا انعقاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود کے نام پر الریاض میں قائم پبلک لائبریری کی جانب سے تاریخی شہر العلا میں ایک ورچوئل فوٹو نمائش کا انعقاد کیا گیا۔ اس نمائش میں العلا بالخصوص مدائن صالح اور دیگر مقامات کی تصاویر کی نمائش کی گئی۔

اس نمائش میں دیگر فوٹو گرافروں کی تصاویر کے ساتھ ساتھ برازیلی شہرت یافتہ فوٹو گرافر ھمبرٹوڈاڈا سلویر کی تیار کردہ تصاویر کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ تصاویر مصور کی فوٹو الم'الحجر :مدائن صالح' سے لی گئی ہیں۔

ان تصاویر میں مدائن صالح، العلا اور وہاں پر موجود تاریخی، ثقافتی اور پرانی تہذیبوں کی باقیات کی عکاسی کرنے والے مقامات کی تصاویر نمائش میں پیش کی گئیں۔

ان تصاویر میں یورپی ممالک کے زیراہتمام مدائن صالح، العلا اور دوسرے مقامات پر کھدائیوں کے دوران برآمد ہونے والی نوادرات کی تصاویر بھی ورچوئل نمائش میں دکھائی گئیں۔

یہ نمائش ایک ایسے وقت میں منعقد کی گئی ہے جب منگل کے روز خلیج تعاون کونسل کا 41 واں سربراہ اجلاس العلا میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی زیرصدارت منعقد ہوا ہے۔

شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری کے جنرل سپروائزر فیصل بن معمر نے بتایا کہ ہمیں سعودی عرب کی میزبانی میں خلیج تعاون کونسل کے اجلاس کے انعقاد پر فخر ہے۔ یہ اجلاس عرب اور خلیجی ریاستوں کے درمیان وحدت اور یکجہتی کا باعث بنے گا اور خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں عرب ممالک کو ایک کنبے میں تبدیل کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ العلا میں ہونے والا خلیج تعاون کونسل کا سربراہ اجلاس مذاکرات،بات چیت اور مفاہمت کے طویل سلسلے کا نقطہ آغاز ہے۔ اس اجلاس کے بعد رکن ممالک کے مابین مصالحت، اقتصادی تعاون اور یکجہتی کی کوششوں کو مزید فروغ ملے گا۔

پبلک لائبریری کی ورچوئل نمائش کے بارے میں بات کرتے ہوئے فیصل بن معمر کا کہنا تھا کہ شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری تاریخی معلومات، آثار قدیمہ سے متعلق دستاویزات، زبان وادب اور سعودی عرب کے شمال مغرب میں گذرنے والی ماضی کی تہذیبوں اور اقوام کے بارے میں بیش بہا معلومات کا ذخیرہ رکھتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ العلا میں اس نمائش کے انعقاد کا مقصد مدائن صالح اور العلا جیسے تاریخی شہروں کی ثقافتی اور تاریخی اہمیت کو اجاگر کرنا اور عرب ممالک کی قیادت کو بہ باور کرانا ہے کہ ان علاقوں میں مسلمانوں کی آمد سے قبل کون کون سی اقوام آباد تھیں اور ان کا طرز زندگی اور بود باش کیسا تھا۔