.

دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے نئے دورکاآغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بدھ کو امن مذاکرات کے نئے دور کاآغاز ہوگیا ہے۔

طرفین کے مذاکرات کاروں نے دسمبر کے اوائل میں امن مذاکرات میں کچھ عرصہ کے لیے وقفے کا فیصلہ کیا تھا۔ان کے درمیان ستمبر سے دوحہ میں مذاکرات جاری تھے لیکن تین ماہ کی بات چیت میں افغان بحران کے جامع حل کے لیے کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔

فریقین کے درمیان دیگر امور کے علاوہ بعض مذہبی تعیبرات اور آیندہ کے حکومتی بندوبست کے بارے میں اختلافات پائے جاتے ہیں جبکہ افغانستان میں برسرزمین تشدد کے واقعات میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔

دوحہ میں طالبان کے دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’آج شام بین الافغان مذاکرات کے دوسرے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔ابتدائی اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ طرفین کی مقررکردہ ٹیمیں ایجنڈے کے موضوعات پر تبادلہ خیال کریں گی۔وہ آیندہ ہفتے سے اپنے کام کا آغاز کریں گی اور ایجنڈے کے امور پر بات چیت کریں گی۔‘‘

توقع ہے کہ نئے دور میں افغان حکومت کے مذاکرات کار جنگ زدہ ملک میں مستقل جنگ بندی اور نظم ونسق کے موجودہ بندوبست کو برقرار رکھنے پر زوردیں گے۔

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے آغاز کے بعد سے تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔حالیہ مہینوں کے دوران میں سرکاری عہدے داروں ، نمایاں شخصیات اور صحافیوں پر اہدافی حملے کیے گئے ہیں۔نومبر کے بعد سے کابل اور دوسرے شہروں میں صوبہ کابل کے ڈپٹی گورنر ، پانچ صحافیوں اور ایک انتخابی کارکن سمیت متعدد افراد کو اہدافی حملوں میں قتل کیا جاچکا ہے۔

افغان حکام طالبان کو ان قاتلانہ حملوں کا ذمے دارقراردیتے ہیں۔طالبان اس الزام کی تردید کرتے ہیں جبکہ ان کے حریف سخت گیرگروپ داعش نے ان میں سے بہت سے حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کے دعوے کیے ہیں۔

افغان انٹیلی جنس کے سربراہ احمد ضیاء سراج نے سوموار کے روز پارلیمان کو بتایا تھا:’’ہم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ طالبان مئی میں امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا تک مذاکرات کو طول دینا چاہتے ہیں۔ہم نے طالبان میں امن کے لیے کوئی عزم نہیں دیکھا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ امریکا نے فروری 2020ء میں طالبان سے دوحہ میں طے شدہ امن معاہدے کے تحت مئی 2021ء تک افغانستان سے تمام غیرملکی فوجوں کے انخلا کا وعدہ کیا تھا۔

امریکا کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے حال ہی میں بین الافغان مذاکرات کی رفتار تیز کرنے پر زوردیا تھا تاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 20 جنوری کو وائٹ ہاؤس سے رخصتی سے قبل جنگ زدہ ملک میں قیام امن کے لیے کوئی نمایاں پیش رفت کی جاسکے۔