.

امریکا:پینس شکست خوردہ ٹرمپ کا ساتھ دینے سے انکاری،کیپٹول ہِل پر مظاہرین کا دھاوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے نائب صدر مائیک پینس بھی شکست خوردہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ساتھ چھوڑ گئے ہیں اور انھوں نے واضح کیا ہے کہ وہ منتخب صدر جوزف بائیڈن کی جیت کی توثیق کے لیے کانگریس کے سرٹی فیکیٹ کی راہ میں حائل نہیں ہوں گے۔

وہ بدھ کو کانگریس کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کررہے تھے جبکہ کیپٹول ہِل کے باہر صدر ٹرمپ کے حامی جمع تھے اور وہ صدارتی انتخابات کے نتائج کے خلاف احتجاج کررہے تھے اور ان کی پولیس سے مسلح جھڑپیں ہوئی ہیں۔بعض اطلاعات کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں امن وامان کی صورت حال بگڑنے کے بعد میئر میوریل بوسر نے بدھ کی شام سے جمعرات کی صبح تک شہر میں کرفیو نافذ کردیا ہے۔

صدر ٹرمپ کے حامیوں نے کانگریس کی عمارت کے باہر کھڑی رکاوٹیں زبردستی دھکم پیل کرکے ہٹا دی تھیں۔ پھرانھوں نے کیپٹول کی عمارت پر دھاوا بول دیا اور ایوان میں داخل ہوکرتوڑپھوڑ کی ہے۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی ہے جس سے متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

ان تشدد آمیز واقعات سے قبل مائیک پینس نے ٹویٹر پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’میں نے مکمل سوچ بچار کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ میرا حلف مجھ سے آئین کے دفاع کا تقاضاکرتا ہے۔وہ مجھے یک طرفہ طور پر یہ دعویٰ کرنے سے روکتا ہے کہ کون سے انتخابی ووٹوں کو شمار کیا جانا چاہیے اور کون سے ووٹوں کو نہیں۔‘‘

مائیک پینس کا کہنا تھا کہ ’’آج جب کانگریس کا مشترکہ اجلاس ہوگا تو میں اپنا فرض ادا کروں گا۔ہم رمختلف ریاستوں میں ڈالے گئے ووٹوں کی تصدیق کی نگرانی کریں گے۔ہم نے سینیٹروں اور ایوان نمایندگان کے اعتراضات سنے ہیں۔‘‘

کانگریس کا یہ اجلاس میں تین نومبرکو منعقدہ صدارتی انتخابات میں ڈالے گئے الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی تصدیق کے لیے طلب کیا گیا تھا۔صدر ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے بعض سینیٹروں اور ایوانِ نمایندگان کے ارکان نے ڈیمو کریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے منتخب صدرجوزف بائیڈن کی جیت کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خالی خولی دعووں کے بجائے ملکی آئین اور نظام کا دفاع کریں گے۔

اس مشترکہ اجلاس سے قبل صدر ٹرمپ نے مائیک پینس پر زوردیا تھا کہ ’’وہ انتخابی میدان جنگ ثابت ہونے والی ریاستوں میں الیکٹورل کالج کے ووٹوں کو کالعدم قرار دے دیں،اس طرح جوزف بائیڈن کی انتخابی جیت کو بھی کالعدم قراردلایا جاسکتا اور ہماری کامیابی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔‘‘

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے جنوب میں واقع ایلیپس میں اپنے ہزاروں حامیوں کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’اگر مائیک پینس درست کام کریں تو ہم الیکشن جیت سکتے ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا:’’نائب صدر پینس کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ ووٹوں کو دوبارہ تصدیق کے لیے ریاستوں کو واپس بھیج دیں۔اس طرح ہم دوبارہ صدر بن جائیں گے اور آپ بہت خوش قسمت لوگ ہوں گے۔‘‘ان اشارہ اپنے حامیوں کی جانب تھا جو بدھ کی صبح ہی سے وہاں جمع ہونا شروع ہوگئے تھے اور دوپہر کے بعد انھوں نے کیپٹول ہل کا رُخ کر لیا تھا۔

صدر ٹرمپ اور ان کے اتحادی صدارتی انتخابات میں بڑے پیمانے پر فراڈ اور بے ضابطگیوں کے دعوے کررہے ہیں لیکن انھوں نے ابھی تک ان کے حق میں کوئی ایک بھی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔امریکا کے سبکدوش ہونے والے اٹارنی جنرل ولیم بار سمیت دونوں جماعتوں کے اعلیٰ عہدے دار بھی اس امر کی تصدیق کرچکے ہیں کہ صدارتی انتخابات میں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی تھی۔واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کے حامیوں نے انتخابی عذرداری کی اپیلیں بھی عدالتوں میں دائر کی تھیں لیکن سپریم کورٹ اور مقامی عدالتیں ان کی تمام درخواستیں مسترد کرچکی ہیں۔