.

امریکی اتحادیوں کی واشنگٹن میں ہنگامہ آرائی کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کپیٹول ہل میں کی جانے والی ہنگامہ آرائی پر عالمی رہنماؤں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن نے اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ "کپیٹول ہل میں ناپسندیدہ مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ امریکہ پوری دنیا میں جمہوریت کے لیے کھڑا ہے اور یہ ضروری ہے کہ یہاں پرامن اور منظم انداز میں انتقالِ اقتدار کا عمل مکمل ہو۔"

جسٹن ٹروڈیو کی پریشانی

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈیو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے تشدد سے ان کا ملک شدیدپریشانی اور غم میں مبتلا ہے۔ انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا، ''تشدد عوام کی مرضی پر غالب آنے میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ امریکا میں جمہوریت برقرار رہنی چاہیے، اور یہی ہوگا بھی۔''

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ کپیٹول ہل کے مناظر پریشان کن اور تکلیف دہ ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ جمہوری عمل کی راہ میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔

یاد رہے کہ کپیٹول ہل پر صدر ٹرمپ کے حامیوں نے اس وقت چڑھائی کی جب کانگریس کے دونوں ایوانوں کے ارکان کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی۔ کانگریس کے مشترکہ اجلاس کے دوران امریکی صدارتی انتخابات میں بعض ریاستوں کے نتائج پر اٹھنے والے اعتراضات پر بحث سمیت نو منتخب صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کاملا ہیرس کی فتح کی توثیق کی جانا تھی۔

کانگریس میں مذکورہ کارروائی سے قبل صدر ٹرمپ کے حامیوں نے وہاں دھاوا بول کر توڑ پھوڑ کی اور سینیٹرز کو ان کے چیمبروں سے بے دخل بھی کیا۔

یورپی یونین کے عہدے داروں نے نو منتخب صدر جو بائیڈن کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کی جانے والی ہنگامہ آرائی کی مذمت کی ہے۔

یورپین کمیشن کی سربراہ ارسلا وون ڈیر لیئن نے ٹوئٹ کی کہ "میں امریکی اداروں اور جمہوریت پر یقین رکھتی ہوں جس کی اساس اقتدار کی پرامن منتقلی ہے۔ اور درحقیقت بائیڈن یہ الیکشن جیتے ہیں۔"

مغربی ملکوں کے عسکری اتحاد (نیٹو) کے سربراہ جنرل جینز اسٹولٹنبرگ نے کہا کہ "واشنگٹن ڈی سی کے مناظر دیکھ کر لرزہ طاری ہو رہا ہے۔ جمہوری طریقے سے ہونے والے انتخابات کا احترام ضروری ہے۔"

ترکی کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کی گئی ایک پریس ریلیز میں امریکہ میں مقیم اپنے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ہجوم والے مقامات سے دُور رہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی توقع کرتا ہے کہ فریقین صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں گے اور امریکہ اس داخلی بحران پر قابو پا لے گا۔

فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں امریکی جمہوریت کے مضبوط ہونے میں پورا یقین ہے۔ ٹویٹر پر پوسٹ کیے گئے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں میکروں نے کہا، ''واشنگٹن ڈی سی میں جو کچھ بھی ہوا وہ امریکیت نہیں ہے۔'' ادھر فرانس کے وزیرِ خارجہ نے اپنی ٹوئٹ میں بدھ کو کپیٹول ہل پر حملے کو جمہوریت پر حملے کے مترادف قرار دیا۔

سابق امریکی صدور کی مذمت

امریکا کے سابق صدر جارج ڈبلیو بش اور ان کی اہلیہ لارا بش نے کیپیٹل ہل کے مناظر پرگہرے صدے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ان کا دل ٹوٹ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے یہ حرکتیں کیں، ''ان کے جذبات کو باطل اور جھوٹی امیدوں سے اشتعال دلایا گیا۔''

بل کلنٹن کا کہنا تھا کہ اس حملے کو ٹرمپ کی ''زہریلی سیاست'' نے ہوا دی۔ ''ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے قابل کارکنان، جس میں کانگریس کے بہت سارے ارکین بھی شامل ہیں، نے انتخابات میں اپنی شکست کے نتائج کو پلٹنے کے لیے ماچس کی تیلی میں آگ لگائی تھی۔''

سابق صدر بارک اوباما نے تشدد بھڑکانے کے لیے صدر ٹرمپ کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا، ''ہماری قوم کے لیے یہ بے عزتی اور بے شرمی کا لمحہ ہے۔'' انہوں نے کہا کہ ریپبلکن کے پاس دو راستے ہیں، ''یا تو وہ اسی راستے پر بڑھتے رہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ کو ہوا دیتے رہیں یا پھر حقیقت کو تسلیم کریں اور آگ کو بجھانے کی طرف پہلا قدم اٹھائیں۔''

امریکہ میں مختلف ریاستوں کے سیاسی فورم 'آرگنائزیشن آف امریکن اسٹیٹس' (او اے ایس) نے بھی بھی کپیٹول ہل پر حملے کی مذمت کی ہے۔ فورم کی جانب سے بدھ کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ جمہوری اداروں میں ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ سے جمہوری عمل کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔