.

برقی گاڑیاں: بریگزٹ کے بعد برطانیہ کی شکست کا پہلا میدان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں گاڑیاں تیار کرنے والے سیکٹر نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ برسوں کے دوران ملک میں برقی گاڑیوں کی بیٹریوں کی صنعت کو جمانا ہو گا ،،، بصورت دیگر برطانیہ اس دوڑ میں یورپی یونین سے پیچھے رہ جائے گا۔

برطانیہ میں 'سوسائٹی آف موٹر مینوفیکچررز اینڈ ٹریڈرز' کے چیف ایگزیکٹو مائیک ہیوز کے مطابق بریگزٹ معاہدے نے ملک میں گاڑیاں تیار کرنے اور ان کی ترسیل انجام دینے والی کمپنیوں کو تھوڑا وقت دیا ہے کہ وہ پیداوار کو مقامی بنا دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "1943ء کے بعد گاڑیوں کی سالانہ فروخت میں واقع ہونے والی سب سے بڑی کمی سے باہر آنے کے حوالے سے یہ ایک مشکل مشن ہے"۔

بریگزٹ معاہدے کے تحت مذکورہ بیٹریوں کے پیکس میں 30٪ اجزاء ابتدا میں برطانیہ یا یورپی یونین سے حاصل کرنا ہوں گے تا کہ یہ کسٹم ڈیوٹی کے بغیر گردش میں آئیں۔ برطانیہ میں برقی گاڑیوں کی بیٹریوں کی موجودہ قلت کا سلسلہ جاری رہا تو 2024ء تک یہ بحران کہیں زیادہ سنگین ہو جائے گا۔

ہیوز کے مطابق برقی گاڑیوں کی بیٹریوں کے تقاضوں نے برطانیہ میں گاڑیاں تیار کرنے والے کارخانوں کو گھمبیر صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ بیٹریاں بھاری ہوتی ہیں اور یورپی یونین میں کارخانوں سے ان کی لدائی اور ترسیل کی لاگت کافی بڑھ جائے گی۔ لہذا یہ اہم ہے کہ برطانیہ میں کارخانے ہوں تا کہ مقامی گاڑیاں اسمبل کرنے کے ٹھکانوں کی ضرورت پوری کی جا سکے۔

سال 2020ء میں برطانیہ میں برقی گاڑیوں کی ترسیل میں 29٪ کی کمی واقع ہوئی جس کی مالیت 20 ارب پاؤنڈ (27 ارب ڈالر) کے مساوی ہے۔

برطانیہ میں گاڑیاں تیار کرنے والے اداروں نے ان اندیشوں کا اظہار کیا ہے کہ بریگزٹ کی ڈیل کے باوجود برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان نئے سرحدی ضوابط اور کسٹم کی جانچ کی کارروائیاں دونوں اطراف کے بیچ اہم سامان کی نقل و حرکت میں رکاوٹ بنیں گی۔ اس کے سبب برطانیہ میں گاڑیوں کی صنعت کو بڑی مشکلات کا سامنا ہو گا۔