.

سعودی عرب:کووِڈ-19 کے کیسوں کی تعداد میں 98 فی صد کمی،137862افرادنے ویکسین لگوالی!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں گذشتہ 24 گھنٹے میں کووِڈ-19 کے 108 نئے کیسوں کی تشخیص ہوئی ہے۔وزارتِ صحت کے مطابق مملکت میں اب کرونا وائرس کے یومیہ کیسوں کی تعداد میں 98 فی صد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

سعودی عرب میں اب کووِڈ-19 کے تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد 363485 ہوگئی ہے۔ان میں فعال کیسوں کی تعداد2170 ہے اور وہ مختلف اسپتالوں میں زیرِعلاج ہیں۔

گذشتہ 24 گھنٹے میں دارالحکومت الریاض میں کرونا وائرس کے 48 نئے کیسوں کی تشخیص ہوئی ہے۔مکہ مکرمہ میں 24 ،منطقہ مشرقی میں 15 اور مدینہ منورہ میں تین نئے کیس ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کووِڈ-19 کا شکار مزید چھے مریض چل بسے ہیں اور اب وفات پانے والے مریضوں کی تعداد 6278 ہوگئی ہے جبکہ کرونا وائرس کا شکار مزید 138 مریض صحت یاب ہوگئے ہیں۔اس طرح تن درست ہونے والے کل کیسوں کی تعداد 355037 ہوگئی ہے۔

وزارتِ صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمدالعبدالعالی نے جمعرات کو بتایا ہے کہ مملکت میں اب تک 137862 افراد کو کووِڈ-19 کی ویکسین لگائی جاچکی ہے۔ان کے علاوہ 10 لاکھ سے زیادہ افراد نے ویکسین لگوانے کے لیے اپنے ناموں کا اندراج کرادیا ہے۔

سعودی عرب میں 15 دسمبر سے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگانے کی مہم جاری ہے۔سعودی حکومت کی جانب سے مملکت کے شہریوں اور مکینوں دونوں کو امریکا کی دواساز فرم فائزر کی ویکسین مفت لگائی جارہی ہے۔

وزارت صحت کے حکام کے مطابق مملکت میں 2021ء کے آخر تک کرونا وائرس کی ویکسینیں وافرتعداد میں دستیاب ہوں گی اور یہ ملک کی 70 فی صد آبادی کے لیے کافی ہوں گی۔

قبل ازیں سعودی وزیرصحت ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے کووِڈ-19 کی ویکسین دوسری مرتبہ لگوانے والے شہریوں اور مکینوں کے لیے آن لائن ’’صحت پاسپورٹ‘‘ کے اجرا کا اعلان کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ’’صحت پاسپورٹ‘‘ سے حکام کو ویکسین لگوانے والے افراد کی شناخت میں مدد ملے گی۔یہ نیا ’’صحت پاسپورٹ‘‘ سعودی عرب کی وزارت صحت نے سعودی اتھارٹی برائے ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت (سدایا) کے تعاون سے تیار کیا ہے۔

ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے خود دوسری مرتبہ کووِڈ-19 کی ویکسین لگوالی ہے۔ویکسین کے کورس کی تکمیل کے بعد وزارت صحت کی توکلناایپ پر ان کا ’’صحت پاسپورٹ‘‘ نظرآرہا تھا۔سدایا ہی کی تیارکردہ ایپ ’توکلنا‘ وزارتِ صحت نے مملکت میں گذشتہ سال اپریل میں متعارف کرائی تھی۔اس کا مقصد کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے متاثرہ افراد کی نگرانی کرناتھا۔