.

ٹرمپ نواز بلوائیوں کا کیپٹول ہل پر حملہ، 04 گھنٹے بعد عمارت محفوظ قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سینٹ کے سارجنٹ ایٹ آرمز نے جمعرات کو بتایا کہ امریکی کیپٹول ہل کی عمارت ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی طرف سے چار گھنٹے زیر قبضہ رہنے کے بعد مظاہرین سے خالی کروا لیا گیا ہے اور اب یہ عمارت بالکل محفوظ ہے۔

اس اعلان کے ساتھ ہی ڈی سی کے میئر نے شہر بھر میں شام کا کرفیو لگانے کا بھی حکم جاری کیا ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق کیپٹول ہل پر دھاوے کے دوران عمارت کے اندر جس خاتون کو گولی ماری گئی تھی وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی ہے۔ دوسری جانب حکام نے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عمارت میں داخل ہونے والے مظاہرین کو باہر نکال کی بلڈنگ کو محفوظ قرار دے دیا ہے۔ اس دوران کئی مظاہرین کو گرفتار کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

واپس گھر چلے جائیں

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیپٹول ہل پر دھاوا بولنے والے اپنے حامیوں سے گھر واپس چلے جانے کے لیے کہا تھا۔ ٹرمپ نے ان افراد کو پر امن رہنے کی تلقین کرتے ہوئے ہنگامہ آرائی کے باوجود ان کے اس مشن کی پذیرائی بھی کی۔ یہ افراد ٹرمپ کی صدارتی انتخابات میں شکست پر احتجاج کر رہے تھے۔

ٹرمپ نے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے اپنے الزامات کو واپس نہ لیتے ہوئے کیپٹول ہل کے گرد اکھٹے ہونے والے اپنے حامیوں کو 'انتہائی خاص‘ قرار دیا، '' مجھے آپ کے درد کا علم ہے۔ مجھے اندازہ ہے کہ آپ تکلیف میں ہیں۔ مگر آپ کو ابھی گھر جانا ہو گا۔ ہم ان افراد کے ہاتھوں میں نہیں کھیل سکتے۔ تو آپ گھر جائیے۔ ہمیں آپ سے پیار ہے، آپ بہت ہی خاص ہیں۔‘‘

ٹویٹر نے ٹرمپ کا یہ ویڈیو پیغام ایک ایسے وقت پر جاری کیا، جب انتظامیہ کیپٹول ہل کی عمارت پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

اجلاس کے دوران دھاوا

کیپیٹول ہل پر دھاوا ایک ایسے وقت پر بولا گیا، جب وہاں دونوں ایوانوں کا ایک مشترکہ اجلاس جاری تھا، جس کی صدارت ٹرمپ کے نائب صدر مائیک پینس کر رہے تھے۔ اس اجلاس میں الیکٹورل کے نتائج اور جو بائیڈن کی فتح کی تصدیق کرنا تھی۔

یہ بغاوت ہے: بائیڈن

نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی پارلیمان کی عمارت کیپٹول ہل پر دھاوے پر تنقید کرتے ہوئے کہا، '' یہ حملہ اس مقدس امریکی عمارت پر ہے، جو عوام کے لیے کام کرتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ احتجاج نہیں بلکہ بغاوت ہے۔

جو بائیڈن کے بقول دنیا یہ منظر دیکھ رہی تھی، ''دیگر امریکی شہریوں کی طرح میں بھی حقیقتاﹰ حیرت زدہ رہ گیا اور افسوس کی بات ہے کہ ایک طویل عرصے تک امید کی کرن اور جمہوریت کی علامت سمجھے جانے والی ہماری قوم کس تاریک لمحے پر آ گئی ہے۔‘‘

اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے قریب نکالے جانی والی ایک ریلی کے شرکاء سے کیپٹول ہل کی جانب مارچ کرنے کا کہا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ ایک موقع پر وہ بھی کیپٹول ہل میں ان کے ساتھ شریک ہو جائیں گے۔ اس موقع پر ان کے الفاظ اور انداز انتہائی اشتعال انگیز تھا۔