.

کانگریس کی عمارت پر دھاوے کے بعد وائٹ ہائوس میں اجتماعی استعفوں کا سلسلہ شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ گھنٹوں کے دوران ری پبلیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی طرف سے کانگریس کی عمارت پر تشدد دھاووں اور فسادات کے بعد جہاں امریکی جمہوریت پر'بدنما داغ' لگا ہے وہیں وائٹ ہائوس میں اس واقعے کے بعد اجتماعی استعفوں کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

اس تناظر میں' سی این این' نے اطلاع دی ہے کہ قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن اور ان کے نائب آنے والے گھنٹوں میں اپنے استعفے پیش کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

اسی طرح ، "ڈیلی بیسٹ" اخبار نے مُتعدد استعفوں کے بارے میں اطلاع دی ہے کہ اور کہا ہے کہ ریپبلکن اکثریت کے رہنما مِچ میک کونل نے مداخلت کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے سینیر عہدیداروں سے چند گھنٹوں کے لیے استعفے ملتوی کرنے کی درخواست کی تاکہ رات گزر جائے۔

دریں اثنا وائٹ ہاؤس کی نائب ترجمان سارہ میتھیوز نے ایک بیان میں استعفی دیتے ہوئے کہا کہ کل ہونے والے تشدد سے سخت پریشان ہوئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری قوم کو اقتدار میں پرامن منتقلی کی ضرورت ہے نہ کے دھاووں اور تشدد کی۔ یہ ایک غلط روایت ہے جس کی امریکا کے جمہوری معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں۔

وائٹ ہاؤس میں سماجی امور کے سکریٹری این لائیڈ نے اپنا استعفیٰ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے استعفے کی وجہ کل بدھ کے روز کانگریس کی عمارت میں پرتشدد واقعات اور فسادات ہیں۔

بلومبرگ نیٹ ورک نے اطلاع دی ہے کہ ریپبلکن صدر نے مارک شارٹ نے نائب صدر کے چیف آف اسٹاف مائک پینس ، کو وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے سے روکا تھا۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ایوان نمائندگان میں اکثریتی ڈیموکریٹک ارکان نے مطالبہ کیا ہےکہ کانگریس میں تشدد کی ذمہ داری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرپ پرعاید کی جائے۔