.

ٹرمپ کا 20 جنوری کو اقتدار نو منتخب صدر کے سپرد کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسلسل کئی ہفتوں تک شکست تسلیم کرنے سے انکار کے بعد آخر کار ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے 20 جنوری 2021ء کو اقتدار نو منتخب صدر کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پابندی ہٹنے کے بعد اپنی پہلی ٹویٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مفاہمانہ انداز میں کہا کہ وہ کیپیٹول ہل کی عمارت میں فسادات کی وجہ سے پریشان ہیں۔

انہوں نے اقتدار کی پرامن منتقلی کے عزم پر زور دیتے ہوئے زور دیا کہ نئی انتظامیہ 20 جنوری کو اقتدار سنبھالے گی۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ جن لوگوں نے کانگریس پر دھاوا بولا وہ امریکا کی نمائندگی نہیں کرتے اور وہ اس کی قیمت ادا کریں گے۔

ٹرمپ نے بھی پہلی بار اعتراف کیا کہ جو بائیڈن امریکا کے اگلے صدر ہوں گے۔

ٹرمپ کے یہ الفاظ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کائلی مک کینانی کے بدھ کے روز کانگریس میں ہونے والے فسادات کی مذمت کے بعد آئے ہیں جس نے اس بات کی تصدیق کی کہ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ اس واقعے کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

امریکی عہدیدار نے زور دے کر کہا کہ جن لوگوں نے کانگریس کا محاصرہ کیا وہ ٹرمپ انتظامیہ کی اقدار کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ میں واضح کردوں کیپیٹول کی عمارت میں ہم نے جو تشدد دیکھا وہ خوفناک ، قابل مذمت اور امریکی اقدار کے منافی تھا۔ صدر اور ان کی انتظامیہ نے ان کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

میک کینانی نے کہا کہ کانگریس میں جو کچھ ہوا وہ ناقابل قبول ہے اور قانون کو توڑنے والوں کو کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے فسادات کرنے والوں کے خلاف مقدمات قائم کیے جانے چاہئیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ الیکٹورل کالج کے نتائج کے مطابق بدھ کے روز ٹرمپ کے حامی مظاہرین نے قانون سازوں کو نو منتخب صدرجو بائیڈن کی فتح کے اعلان سے روکنے کے لیے کانگرس کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا۔ پولیس اور مسلح مظاہرین میں تصادم کے نتیجے میں کم سے کم چار افراد ہلاک اور 50 سے زاید زخمی ہو گئے تھے۔

اس کے علاوہ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے تصدیق کی کہ امریکی انتظامیہ کے عہدے دار اقتدار کی ہموار اور منظم منتقلی کو یقینی بنانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ الیکٹورل کالج کے نتائج کے مطابق بدھ کے روز ٹرمپ کے حامی مظاہرین نے قانون سازوں کو نومنتخب صدرجو بائیڈن کو فتح کے اعلان سے روکنے کے لیے دارالحکومت میں دراندازی کی اور کانگرس کی عمارت پر ہلہ بول دیا۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور 50 سے زاید زخمی ہو گئے تھے۔