.

کانگریس کی عمارت سے حساس مواد کے چوری ہونے کے پر وزارت انصاف کو تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعرات کو امریکی محکمہ انصاف نے واضح کیا کہ کانگریس کی عمارت سے حساس معلومات چوری ہونے کے بعد قومی سلامتی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

وزارت کا یہ بیان امریکی دارالحکومت واشنگٹن دو روز قبل مشتعل مظاہرین اور سبکدوش صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی طرف سے دھاوا بولنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس پرتشدد دھاوے میں چار افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

مشتعل مظاہرین ،جن میں سے کچھ نے مسلح تھے نے کیپیٹول پر دھاوا بول دیا۔ کانگریس کے ارکان کو جو بائیڈن کی حمایت کرنے کے لیے جاری ووٹ کو روکنے اور پھر روپوش ہونے پر مجبور کر دیا۔

جمعرات کو العربیہ اور الحدث کے نمائندے نے اطلاع دی کہ کانگریس کی عمارت کے آس پاس نئی فوجی کمک لگا دی گئی ہے۔

پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی کہ نیشنل گارڈ کی نقل و حرکت 20 جنوری کو صدر جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری تک جاری رہے گی۔

امریکی حکومت کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر 'اسوسی ایٹڈ پریس' کو بتایا کہ وزارت دفاع نے باضابطہ طور پر 6 شمال مشرقی ریاستوں سے نیشنل گارڈ کے 6،200 اہلکاروں کو واشنگٹن میں کیپٹل پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کے لیے طلب کیا ہے تاکہ امریکا میں انتقال اقتدار کے مراحل میں کسی قسم کا‌خون خرابہ نہ ہو۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ قائم مقام سیکریٹری کرسٹوفر ملر نے ورجینیا ، پنسلوانیہ ، نیویارک ، نیو جرسی ، ڈیلاوئر اور میری لینڈ سے 30 دن تک کی مدت کے لئے نیشنل گارڈ کو فعال کرنے کے احکامات پر دستخط کیے ہیں۔