.

خادم الحرمین الشریفین کو کرونا ویکسین کی پہلی خوراک دے دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کل جمعہ کو خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کو نیوم شہر میں کرونا ویکسین کی پہلی خوراک دی گئی ہے۔

وزیر صحت ڈاکٹر توفیق بن فوزان الربیعہ نے خادم الحرمین الشریفین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے وبا کے آغاز سے اب تک مملکت کی سرزمین پر شہری اور مقیم افراد کی صحت اور ان کی جانوں کے تحفظ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔

ڈاکٹر الربیعہ نے کہا کہ آج خادم الحرمین الشریفین کو ان کی خواہش کے مطابق ویکسین لگائی گئی ہے۔ ان کی جانب سے یہ اقدام اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ علاج سے پہلے ہی ریاست کی پالیسی ہمیشہ وبا کی روک تھام پر مرکوز رہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سعودی وزارت صحت کے ترجمان محمد العبدالعالی نے جمعرات کے روز ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا تھا کہ تغیر پزیر کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کے 10 کیسز سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے حال ہی میں تبدیل شدہ وائرس سے متاثرہ افراد کے 10 تشخیص کی ہے۔ ہم نے ان کے ساتھ رابطے میں آنے والے تمام افراد کا سراغ لگا لیا ہے۔ ان میں سے کسی میں بھی انفیکشن نہیں پایا گیا ہے۔

مزید برآں انہوں نے زور دے کر کہا کہ کرونا وائرس میں تبدیلی آ رہی ہے۔ سائنس دانوں اور ماہرین نے گذشتہ ایک سال کے دوران ہزاروں تغیرات کی نگرانی کی ہے

سعودی عرب کے وزیر صحت ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے کووِڈ-19 کی ویکسین دوسری مرتبہ لگوانے والے شہریوں اور مکینوں کے لیے آن لائن ’’صحت پاسپورٹ‘‘ کے اجرا کا اعلان کیا ہے۔

یہ نیا ’’صحت پاسپورٹ‘‘ سعودی عرب کی وزارت صحت نے سعودی اتھارٹی برائے ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت (سدایا) کے تعاون سے تیار کیا ہے۔

سدایا کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ شرف نے جمعرات کے روز وزیر صحت کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ ’’کووِڈ-19 کی ویکسین کی دوسری خوراک لگوانے والے شخص کو چند سیکنڈز ہی میں توکلنا ایپ پر خودکار طریقے سے صحت پاسپورٹ جاری ہوجائے گا۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’سعودی عرب دنیا کا پہلا ملک ہے جہاں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کاوشوں کے حصے کے طور پر ’’صحت پاسپورٹ‘‘ جاری کیے جارہے ہیں۔

اس موقع پر وزیرصحت نے کہا کہ صحت پاسپورٹ سے حکام کو ویکسین لگوانے والے افراد کی شناخت میں مدد ملے گی۔

سدایا کی تیار کردہ ایپ ’توکلنا‘ وزارتِ صحت کی منظور شدہ ہے۔اس ایپ کو متعارف کرانے کا مقصد کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے متاثرہ افراد کی نگرانی کرناتھا۔گذشتہ سال سعودی عرب نے اس مہلک وائرس کی وبا کے عروج کے دنوں میں شہریوں میں کرفیو نافذ کیا تھا اور اس دوران میں توکلنا ایپ ہی کے ذریعے لوگوں کی نقل وحرکت کی نگرانی کی جاتی رہی تھی۔