.

خامنہ ای نے فائزر ویکسین روک دی ، ایجاد کرنے والا پہلے ہی ایران میں انعام سے نوازا جاچکا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای نے جمعے کے روز اپنی گفتگو کے دوران ملک میں کرونا کی ویکسین کو روکنے اور امریکی ویکسینز بالخصوص فائزر کمپنی کی ویکسین کو مشکوک قرار دینے کے حوالے سے بات کی۔ تاہم شاید وہ اس بات سے غافل رہے کہ اسی نوعیت کی ایک ویکسین کی تیاری میں شریک شخصیت کو کچھ عرصہ پہلے تہران میں انعام سے نوازا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق اوگور شاہین نامی سائنس دان کو 2019ء میں تہران میں ایک سرکاری سوسائٹی کی جانب سے "المصطفى" پرائز دیا گیا۔ اوگور کو یہ انعام ایک قسم کے سرطان کی ویکسین کے سلسلے میں تحقیقی کوششوں پر دیا گیا۔

گذشتہ برس کے اواخر میں فارس نیوز ایجنسی کی انگریزی ویب سائٹ نے یاد دہانی کرائی تھی کہ فائزر اور بیواینٹیک ویکسین تیار کرنے والی شخصیت کا تہران میں اعزاز و اکرام کیا گیا تھا۔

اس موقع پر ایرانی میڈیا نے تصاویر نشر کی تھیں جن میں اوغور شاہین کو علی خامنہ ای کے خصوصی معالج علی رضا مرندی سے اپنا انعام وصول کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ خبر اس تضاد کی دلیل ہے جو گذشتہ روز ایران کے رہبر اعلی کے ٹی وی خطاب میں نظر آیا۔

ایرانی رہبر اعلی نے گذشتہ روز اپنے ملک کو کوویڈ - 19 کی امریکی اور برطانوی کمپنیوں کی وکیسینز درآمد کرنے سے منع کر دیا تھا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں واضح طور پر کہا کہ اس سلسلے میں امریکی اور برطانوی ویکسینز کی درآمد ممنوع ہے۔ خامنہ ای نے مزید کہا کہ "میں یقینا ان پر اعتماد نہیں کرتا۔ غالبا وہ دیگر ممالک میں اپنی ویکسینز کی جانچ کرنا چاہتے ہیں"۔

خامنہ ای کے فیصلے کے کچھ ہی دیر بعد ایران نے فائزر کمپنی کی ویکسین کی 1.5 لاکھ خوراکوں کی درآمد معطل کر دی۔

گذشتہ برس دسمبر میں ایرانی پاسداران انقلاب نے کرونا کے خلاف غیر ملکی ویکسینز کے استعمال کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔