.

مراکش اوراسرائیل میں امن معاہدے کے بعد امریکی ایلچی کا مغربی صحرا کا پہلا دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مراکش اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے ایک ماہ بعد امریکا کے خصوصی ایلچی نے مغربی صحرا(صحارا) کا دورہ کیا ہے۔اس امن معاہدے کے بدلے میں امریکا نے مراکش کی اس متنازع علاقے پر خود مختاری تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

رباط میں امریکی سفارت خانہ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں امریکا کے معاون وزیرخارجہ برائے مشرقِ قریب امور ڈیوڈ شینکر کے مغربی صحارا کے دورے کو تاریخی قرار دیا ہے۔وہ شمالی افریقا اور مشرقِ اوسط کے لیے امریکا کے اعلیٰ سفارت کار ہیں۔

مراکش کی سرکاری خبررساں ایجنسی میپ نے اطلاع دی ہے کہ ڈیوڈ شینکرنے مغربی صحرا کے علاقائی دارالحکومت لعیون کا دورہ کیا ہے۔وہ خطے میں واقع اقوام متحدہ کے ایک بیس پر بھی گئے ہیں۔مسٹر شینکر اس وقت خطے کے ملکوں کے دورے پر ہیں۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے امن دستے بھی مغربی صحرا میں تعینات ہیں۔انھیں اس علاقے کے مکینوں کو حق خودارادیت کا موقع دینے کے لیے ریفرینڈم منعقد کرنے کا مینڈیٹ حاصل ہے۔امریکا کے اس علاقے کے بارے میں نئے مؤقف کے باوجود اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس کے مؤقف میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیوڈ شینکر کے اس دورے کے موقع پر اتوار کو اس صحرائی علاقے کے صدر مقام لعیون میں امریکا کا ایک عارضی قونصل خانہ کھولا جائے گا۔

اسرائیل اور مراکش نے گذشتہ ماہ امریکا کی ثالثی میں معمول کے تعلقات استوار کرنے سے اتفاق کیا تھا۔مراکش گذشتہ چار ماہ میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کا اعلان کرنے والا چوتھا عرب ملک تھا۔

امریکا کے سبکدوش ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 دسمبر کو مراکش کے شاہ محمد ششم سے فون پر بات چیت کی تھی اور مراکش کے اسرائیل کے ساتھ امن سمجھوتے کا اعلان کیاتھا۔اس کے تحت مراکش اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات اور سرکاری روابط استوار کرے گا،اس کی پروازوں کو اپنی فضائی حدود سے گذرنے کی اجازت دےگا اور تمام اسرائیلیوں کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان اپنی پروازیں چلائے گا۔

اس امن معاہدے کے حصے کے طور پر امریکی صدر نے مغربی صحرا کے تمام علاقے پر مراکش کی خود مختاری تسلیم کرنے سے اتفاق کیا تھا۔اس علاقے پر مراکش کا الجزائر کی حمایت یافتہ تحریک پولیسیاریو فرنٹ سے تنازع چل رہا ہے۔ یہ تحریک اس علاقے میں اپنی آزاد ریاست قائم کرنا چاہتی ہے اور وہ 1970ء کے عشرے سے اس مقصد کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا کے منتخب صدر جوبائیڈن نے مغربی صحرا کے بارے میں ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔وہ 20 جنوری کو صدارتی منصب سنبھالیں گے۔